مقابل نہ ٹھہرے تو پھر خدا سے جنگ کرنی چاہیں گے۔
خداسے جنگ یہی ہے کہ نا ان مین تضرع اور زاری ہے اور نہ دعا کی حقیقت پر نطر ہو بلکہ اسباب اور تدابیر پر پورا بھروسہ ہو۔اور قضا وقدر کا مقابلہ کیا جاوے۔ڈوئی کے سامنے جو ہمارا مقمہ تھا۔اس مین بھی خدا نے یہی فرمایا کہ ہم گویا اتر کر لڑے۔
انا تجالدنافانقطع العدو واسبا بہ۔
اور ا س میں دونوں دشمن نا کام اور نامراد رہے۔
جب قضاء قدر اٹل ہو تو پھر جو کوئی اس کا مقابلہ کرتا ہے،تو گویا خدا سے لڑائی کرتا ہے۔یورپ کی سلطنت ون اور خاص کر ہماری سلطنت کا بہت بڑا اقبال ہے۔حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر سلطنت میں طاعون جاوے گی۔ان کو خدا کے تصرف پر یقین نہین۔پہلے بادشاہوں کا یہی حال تھا کہ جب کوئی آفت رعایا پر آتی تو خود اُن میں تضرع کی حالت پیدا ہوئی اور وہ دعائیں کرتے اور کراتے اور صدقات سے کام لیتے۔مگر آج کل تدابیر اور اسباب ہی پر سارا بھروسا ہے۔دعائوں کو لغو اور بیہودہ شے سمجھا گیا یہ۔
اور اصل تو یہ ہے کہ قضاء قدر کا سارا سلسلہ تو سچے خدا پر ایمان لانا تھا۔جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا مان لیا۔پھر اس سلسلہ پر کیوں ایمان لاتے۔
افیون کی مَضَرَّت فرمایا:۔
جو لوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آگئے ہے۔وہ موافق نہیں آتی۔دراصل وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قویٰ کو نابور کر دیتی ہے۔
انی احافظ کل من فی الدار
اﷲ تعالیٰ نے ہمیں جو بشارت دی ہے۔یہ سچ ہے اور یہ ایک نشان ہے اس کی طرف سے۔اﷲ تعالیٰ کسی علاج س یمنع نہیں کرتا،بلکہ شہد اور مشک وغیرہ کا خود ذکر کرتا ہے۔اس لیے اگر ٹیکا ضروری ہوتا تو سب سے پہلے ہم کو حکم ہوتا۔خد گورنمنٹ کو بھی اس پر پورا وثوق نہیں ہے۔یہ الہام جو
انی احافظ کل من فیالدار
ہے اس مین ڈرایا بھی ہے جبکہ اس نے فرمایا ہے۔
الاالذین علو ابا ستکبار
جو لوگ فسق کی پرواہ نہی کرتے وہ اﷲ تعالٰ کی ذمہ داری سے الگ ہیں۔اور جن لوگوں کی زندگی کا درجہ ختم ہو گیا ہے وہ بھی الگ ہیں۔اور سب سے آخر یہ بات ہے کہ نسبتاً جو اُن میں ہیں وہ