ایک فقرہ لکھا ہے کہ مسیح نے دو ہزار رسؤ روں کو شیطان میں ڈال دیا۔تو گویا سؤر کے لیے موزوں جگہ شیطان ہے اور پھر سؤر کیلئے بہترین جگہ تمہارا پیٹ ہے۔
انجیل کی ایک تمثیل
انجیل میں ایک خمیر کی مثال ہے۔جس کو ناظرین کی دل چسپی کے لئے ہم انجیل متی کے ۱۳؍۲۳ سے نقل کرتے ہیں۔یہ مثال ڈوئی نے بیان کی ہے اور اس پر حجۃاﷲ نے مختصر سی تقریر کی۔وہ ذیل میں درج ہوگی۔وہ مثال انجیل میں یوں لکھی ہے۔
’’اس نے ایک اور تمثیل انہیں سنائی کہ آسمان کی بادشاہت اُس خمیر کی طرح
ہے جسے کسی عورت نے لیکر تین پیمانہ آٹے میں ملا دیا۔اور ہوتے ہوتے سب
خمیر ہو گیا‘‘۔ فرمایا :
اگر یہ صحیح ہے تو یہ پیشگوئی ہے۔عورت سے مراد دنیا ہے اور مسیح س یلے کر اس وقت تک تین ہی پیمانے ہوتے ہیں۔یعنی خود مسیح،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اس وقت یہ سلسلہ ۔ہم نے جو تعلیم لکھی ہے۔اور کشتئی نوخ میں چھپی ہے۔اس کو پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ تین پیمانون کو ایک کیا گیا ہے۔عورت سے مراد دنیا ہے۔گو دنیا نے طبعاً تقاضا کیا کہ یہ سلسلے اس طرح پر قائم ہوں۔ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو پیش کرکے مسیح کی تعلیم کے زوائد کو نکال دیا ہے۔براہین کے الہامات میںمجھے اور مسیح ابن مریم کو ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے کہا گیا یہ۔؎ٰ
اس کے بعد نماز عشاء کا دربار ختم ہوا۔
۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر)
یاجوج ماجوج یاجوج ماجوج کے تذکرہ پر فرمایا کہ :
من کل حدب ینسلون (الانبیاء : ۹۷)
کے بعد وہ خدا سے خنگ کریں گے۔اب گویا یہ خدا سے جنگ ہے۔یہ استعارہ ہے کہ جب اقبال یہانتک پہنچ جاوے کہ کوئی سلطنت ان کے