خدا تعالیٰ نشان نمائی میں اپنی شرائط رکھتا ہے۔ اس کے بعد مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے اپنا ایک لطیف مضمون سنایا۔ پھر ٹیکہ طاعونپر مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ اور طاعون کے ذکر آنے پر آپ نے اپنی پیشگوئی کو دہرایا: کہ براہین میں اس کی خبر دی گئی ہے۔ اتیٰ امر اﷲ فلا تستعجلون۔ اور پھر نذیر نام رکھا اور کاہ کہ زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اور پھر فرمایا کہ یہی زور آور حملے ہیں۔انسان جب کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا،تو غافل ہوتا ہے۔لیکن جب زلزلہ کی طرح ہلایا جاتا ہے۔پھر تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔جیسے فرعون کا حال ہوا۔ دوزخ حدیث آتش دوزخ کہ گفت واعظ شیخ حدیث آتش روزگار ، ہجران است خدا تعالیی سے جب انسان خدائی لے کر جاتا ہے،تو اس کے مثلات دوزخ ہونتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام میں کذب نہیں ہے۔ من یات ربہ مجرما (طہ : ۷۵) سچ فرمایا ہے۔جب انسان عذاب اور درد میں مبتلا ہے؛اگر چہ وہ زندہ ہے،لیکن مردوں سے بھی بدتر ہے وہ زندگی جو مرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ صلاح اور تقویٰ کے بدوں نہیں مل سکتی۔جس کو تپ چرھی ہوئی ہے اسے کیونکر زندہ کہہ سکتے ہیں۔سخت تپ میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات ہے یا دن ہے۔ شدھی اور شودر مولانا مولوی نورالدین صاحب حکیم الامت نے عرض کیا کہ روڑکی میں بعض مسلمان آریہ ہو گئے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں کوئی نفع پہنچا۔اور اب شدھ ہو کر تم کس ورن میں ہوئے۔اُس نے کہا کہ شودر میں۔پھر دوسرے آریہ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔اس نے کہا کہ میں بھی شودر ہوں۔میں نے کہا کہ کیا آپ اپنی لڑکی ان کو دے سکتے ہیں۔خاموش ہی ہوگیا۔ پگٹ اور ڈوئی مسٹر پگٹ کے متعلق ایک نوٹ فری تھنکر سے سنا یا گیا کہ لوگوں نے اس پر حملہ کیا۔پولیس نے بچادیا۔اور پھر مسٹر ڈوئی کا اخبار سنایا گیا۔اس نے