جاتے؟ کیا ہو سکتا ہے کہ گز آدھ گز کا کرتہ ایک نوجوان کو پہنایا جاوے ؟ یقینا کوئی سلیم الطبع انسان اس بات کو پسند نہیں کرے گا بلکہ وہ ایسی حرکت پر ہنسی اڑائے گا ۔ اب اس مثال سے کیسی صفائی کے ساتھ ثابت ہو تا ہے کہ یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ ہر نسخ کے لئے عدم علم ثابت ہو۔ جب ہم بجائے خود معرض تغیر میں ہیں تو ہماری ضرورتیں اس تغیر کے ساتھ ساتھ بدلتی جاتی ہیں پھر ان تبدیلیوں کے موافق جو نسخ ہو تا ہے وہ ایک علم اور حکمت کی بنا ء پر ہوا یا عدم علم پر ۔ یہ اعتراض سراسر جہالت اور حمق کا نشان ہے جیسے پیدا ہونے والے بچے کے منہ میں روٹی کا ٹکڑہ یا گوشت کی بوٹی نہیں دے سکتے اسی طرح پر ابتدائی حالت میں میں شریعت کے وہ اسرار نہیں مل سکتے جو اس کے کمال پر ظاہر ہوتے ہیں طبیب ایک وقت خود مسہل دیتا ہے اور دوسرے وقت جب کہ اسہال کا مرض ہو اس کو قابض دوا دیتا ہے۔ ہر حالت میں وہ ایک ہی نسخہ کس طرح لکھ سکتا ہے ۔ غرض قرآن شریف حکمت ہے اور مستقل شریعت ہے اور ساری تعلیموں کا مخزن ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کا پہلا معجزہ اعلی درجہ کی تعلیم ہے اور پھر دوسر امعجزہ قرآن شریف کا اس کی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں چنانچہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ تحریم اور سورۂ نور میں کتنی بڑی اور عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں رسول اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی ساری پیشگوئیوں سے بھری ہوئی ہے ان پر اگر ایک دانشمند آدمی خدا سے خوف کھا کر غور کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ کس قدر غیب کی خبریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہیں کیا اسو قت جبکہ ساری قوم آپ کی مخالف تھی اور کوئی ہمدرد اور رفیق نہ تھا یہ کہنا کہ سیھزم الجمع و یولون الدبر( القمر:۴۶) چھوٹی بات ہو سکتی تھی ۔ اسباب کے لحاظ سے تو کوئی ایسا فتوی دیا جاتا تھا کہ ان کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر آپ ایسی حالت میں اپنی کامیابی اور دشمنوں کی ذلت اور نامرادی کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں اور آکر اسی طرح وقوع میں آتا ہے پھر تیرہ سو سال کے بعد قائم ہونے واے سلسلہ کی اور اس وقت کے آثار و علامات کی پیشگوئیاں کیسی عظیم الشان اور لا نظیر ہیں دنیا کی کسی کتاب کی پیشگوئیوں کو پیش کر دیا کیا یہ مسیح کی پیشگوئیاں ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں جہاں صرف اتنا ہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے آندھیاں آئیں گی مرغ بانگ دے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی معمولی باتیں تو ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے اور یہ حوادثات ہمیشہ ہی ہوتے رہتے ہیں پھر اس میں غیب گوئی کی قوت کہاں سے ثابت ہوتی ہو۔ اس کے مقابلہ میں قرآن شریف کی پیشگوئی دیکھو۔ الم۔ غلبت الروم فی ادنی الأ رض و ھم من بعد غلبھم سیغلبون۔فی بضع سنین للہ الأمر من قبل و من بعد و یومئذ یفرح المؤمنون( الروم:۲تا۵) میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔رومی اپنی سرحد میں اہل فارس سے مغلوب ہو گئے ہیں اور بہت