حاصل کرو۔یہ ایک لطیف نکتہ معرفت ہے۔ ایک شخص نے سوال لکھ کر بھیجا تھا کہ میرے دادا نے مکان کے ایک حصہ ہی کو مسجد بنایا تھا۔اور اب اس کی ضرورت نہیں رہی تو کیا اس کو مکان میں ملا لیا جاوے؟ فرمایا ’’ہاں۔ملا لیا جاوے‘‘۔؎ٰ زاں بعد بعد نماز عشاء اجلاس ختم ہوا ۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ (بعد نماز عصر) مولوی کرم الدین کی دھمکی کا جواب مولوی کرم الدین صاحب بھیں نے سائیں مہر علی شاہ گولڑوی کے پردہ دری والے مضمون کو پڑھ کر اور سن کر ایک خط لکھا۔جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اب جو کچھ مجھ سے ہو سکے گا میں کروں گا۔فرمایا : اُن کو لکھ دو کہ تمھاری دھمکی تم پر ہی پڑے گی۔جو دوسرے مولویوں پر پڑا ہے،وہی تم پر پڑے گا۔ہماری باتیں آسمانی ہیں۔ہم منصوبہ نہیں سوچتے۔یہ نامردی ہے۔کہ تم نے نام تک نہیں لکھا۔ دربارِ شام مختلف مسائل پر گفتگو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام کی طبیعت بعارضہ زکام ناساز تھی۔بعد ادائے نماز مغرب جب آپ اجلاس فرما ہوئے تو ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب طبی مشورہ عرض کرتے رہے۔پھر مولانا مولوی محمد علی صاحب نے منشی مظہر علی صاحب کا خط طنایا جو میگزین کو پڑھ کر اس سلسلہ کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے مزید اطمینان کے لیے چاہا تھا جو اقتراحی معجزات مانگنے والوں کو جواب دینا چاہیے۔جواب دیا اور فرمایا کہ :