وغیرہ رکھے ہیں۔وہ سب قرآن میں موجود ہیں۔ماسوا س کے یہ سلسلہ اپنے ساتھ ایک علمی ثبوت رکھتا ہے۔اگر ان علمی امور کو یکجائی طور پر دیکھا جاوے،تو آفتاب کی طرح اس سلسلہ کی سچائی روشن نظر آتی ہے۔خدا تعالیٰ نے میرے سارے نبیوں کے نام رکھے ہیں اور آخر جری اﷲ فی حلل الانبیاء کہہ دیا ہے۔ مقامِ خاتم النبیین ہم جس طرح پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔اور پھر یہ کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام نبی رکھا۔یہ بالکل سچی بات ہے۔ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو چشمئہ افادیت مانتے ہیں۔ایک چراغ اگر ایسا ہو جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو۔وہ قابل تعریف نہیں ہے،مگر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔ یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ مکان محمد ابااحدمن رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین (الاحزاب : ۴۱) یہ بالکل درست ہے۔خدا تعالیٰ نے آپؐ کی جسمانی ابوت کی نفی کی۔لیکن آپ کی روحانی ابوت کا استثناء کیا ہے۔اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی تتو پھر اس طرح پر معاذ اﷲ یہ لوگ آپؐ کو ابتر ٹھہراتے ہیں،مگر ایسا نہیں آپ کی شان تو یہ ہے کہ انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر انشانئک ھوالابتر (الکوثر : ۲ تا ۴) اﷲ تعالیٰ نے ختم نبوت کی آیت میں فرمایا ہے کہ جسمانی طور پر آپؐ اب نہیں،مگر روحانی سلسلہ آپؐ کا جاری ہے۔لکن مافات کے لیے آتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کہتا ہے کہ آپؐ خاتم ہیں۔آپؐ کی مہر سے نبوت کا سلسلہ چلتا ہے۔ ہم خودبخود نہیں بن گئے۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق جو بنایا وہ بن گئے۔یہ اس کا فعل اور فضل ہے۔یفعل مالیشاء۔خدا نے جو وعدے نبیوں سے کئے تھے۔ان کا ظہور ہوا ہے۔براہین میں یہ الہام اس وقت سے درج ہے۔ وکان امرا مقضیا۔صدق اﷲ ورسولہ وکان امرا مفعولا۔ وغیرہ اس قسم کے بیسیوں الہام ہیں۔جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہوا تھا۔اس میں ہمارا کچھ تصرف نہیں۔کیا جس وقت اﷲ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ وعدے فرمائے ہم حاضر تھے؟ جس طرح خدا تعالیٰ مرسل بھیجتا ہے،اسی طرح اس نے یہاں اپنے وعدہ کو پورا کیا۔آئندہ کے لیے اگر اس قسم کے جلسے گفتگو کے ہوں،تو سوالات پہلے قلمبند ہونے چاہئیں تا کہ ان کے جوابات دیکھ لیے جائیں،کیونکہ ہم تو ان بحثوں کا سلسلہ بند کر چکے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی بیٹر بازی نہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ پہلے سے مرتب ہو جاوے۔ حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے جو لکھا ہے کہ سورئہ نور سے نور