ہر ایک کا کام نہیں کہ دین کے لیے بات کرے،پہلے خود متقی ہونا چاہیے تا کہ سخن کزدل بُروں آید نشیند لا جرم بَردِل کا مصداق ہو۔ منطقی بات بدبُو دار ہوتی ہے،کیونکہ اس میں برے دائو پیچ ہی ہوتے ہیں۔اس لیے منطقیانہ طریق کو چھوڑ کر عارفانہ تقریر کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔ ۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ دربارِ شام آج بعد عصر حضرت صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد سلمہ اﷲالاحد کی برات رُڑ کی سے واپس آئی تھی۔اس موقعہ پر ایڈیٹر الحکم نے اپنی احمدی جماعت کی طرف سے ایک مبارکباد کا خاص پر چہ شائع کیا جو برات کے دارالامان پہنچتے ہی شائع کیا گیا تھا۔ واقعہ صلیب کے بعد مسیح کی زندگی کے متعلق پطرس کی شہادت قبل نما زمغرب جب حضرت جری اﷲ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو رُڑ کی سے آئے ہوئے احباب ملے جو برات میں گئے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے (جو حضرت اقدس کے سلسلہ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں اور جو عیسائیوں کی کتابوں کو پڑھ کر ان میں سے سلسلہ عالیہ کے مفید مطلب مضامین کے اقتبامیں کرنے کا بے حد شوق اور جوش رکھتے ہیں)پطرس کے متعلق سنایا۔کہ رُڑ کی میں پادریوں س یمل کر میں ین اس سوال کو حل کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر ۳۰ یا ۴۰ سال کے درمیان تھی۔ناظرین کو اس سوال ’’عمر پطرس کی ضرورت‘‘ کے لیے ہم الحکم کا وہ نوٹ یاد دلاتے ہیں جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض کاغذات ا سقسم کے ہیں۔جن میں پطرس لکھتا ہے کہ میں نے مسیح کی وفات کے تین سال بعد ان کو لکھا ہے۔اور اب میری عمر ۹۰ سال کی ہے۔گویا مسیح نے جب وفات پائی،تو پطرس کی عمر ۸۷ سال کی ہوئی اور واقعہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر تیس اور چالیس کے درمیان بتائی جاتی ہے۔تو اب اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد کم از کم ۴۷ سال تک بموجب اس تحریر کے زندہ رہا۔اور پطرس ان کے ساتھ رہا۔اور یہ ثابت ہو گیا کہ صلیب پر مسیح نہیں مرا،بلکہ طبعی