موت سے مرا ہے اور نہ آسمان پر اس جسم کے ساتھ اٹھایا گیا ،کیونکہ راس الحوارمیں پطرس اس کی موت کا اعتراف کرتا ہے اور موت اکا وقت دیتا ہے۔ مفتی صاحب نے یہ عظیم السان خوشخبری حضرت کو سانائی۔پھر نماز مغرب ادا ہوئی۔ بعد نماز مغرب ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین کے اخلاص اور نورِ فراست کا ذکر ۳:۔ بعد ادائے نماز مغرب حصرج حجۃاﷲ حسب معمول شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔بیٹھتے ہی حصرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے مبارکباد دی اور عرض کیا کہ حضور ڈاکٹر صاحب کو بہت ہی مخلص پایا ہے۔کوئی بات انہوں نے نہیں کو۔یہی کہا ہے کہ جو حکم دیا ہے وہ کرو۔بھائیوں میں سے بھی کوئی شریک نہیں ہوا۔فرمایا : خدا تعالیٰ نے ان کو بہت اخلاص دیا ہے اور یہ تقریب پیدا کر دی کہ مخالف بھائیوں سے قطع تعلق ہو جاوے۔ پھر مولوی صاحب نے عرض کی کہ باوجود یکہ کوئی تکلف کی بات نہ تھی،مگر وہ بڑی ہی خاطر و تواضع سے پیش آئے اور اسی میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے۔فرمایا : اُن میں اہلیّت اور زیر کی بہت ہے۔ اس پر حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور جب الحکم میں میرا ایک خطبہ فلا وربک پر شائع ہوا تو انہوں نے بڑے ہی اخلاص اور صدق سے خط لکھا کہ اس کو پڑھ کر میرا ایمان بڑا قوی اور تازہ ہو گیا ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا : میں نے دیکھا ہے کہ اُن میں نورِ فراست ہے۔وہ باپ سے بھیا س معملہ میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ حافظ محمد یوسف اور قطع الوتین حافظ محمد یوسف کا ذکر آگیا کہ : اس نے اشتہار دیا ہے اور اس میں قطع الوتین کا حوالہ دیا ہے۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین کی ہے کہ ایک مفتری کو بھی وہ تسلیم کرتا ہے کہ ۲۳ برس تک زندہ رہتا ہے؛حالانکہ