اور نسب محفوظ رہے،کیونکہ اگر نسب محفوظ نہ رہے تو زنا کا اندیشہ ہوتا ہے۔جس پر خدا نے بہت ناراضی ظاہر کی ہے۔یہاں تک کہ زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔اس لیے اعلان کا انتظام ضروری ہے؛البتہ ریاکاری،فسق فجور کے لیے یا صلاح و تقویٰ کے خلاف کوئی منشا ہو تو منع ہے۔
شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں ہے۔
لا یکلف اﷲ نفسا الا وسعھا (البقرہ : ۲۸۷)
باجا کے متعلق حرمت کا کوئی نشان بجز اس کے کہ وہ صلاح وتقویٰ کے خلاف اور ریاکاری اور فسق و فجور کے لیے ہے،پایا نہیں جاتا اور پھر اعلان بالدّف کو فقہاء نے جائز رکھا ہے اور اصل اشیاء حلّت ہے،اس لیے شادی میں اعلان کے لیے جائز ہے۔
شادی کے موقعہ پر لڑکیوں کا گانا
پھر یہ سوال کیا گیا کہ لڑکی یا لڑکے والوں کے ہاں جو جوان عورتیں مل کر گھر میں گاتی ہیں۔وہ کیسا ہے؟ فرمایا :۔
اصل یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح پر ہے۔اگر گیت گندے اور ناپاک نہ ہوں،تو کوئی حرج نہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے مل کر آپ کی تعریف میں گیت گائے تھے۔
مسجد میں ایک صحابی نے خوش الحانی سے شعر پڑھے تو حضرت عمرؓ نے ان کو منع کیا۔اس نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے ہیں۔تو آپؐ نے منع نہیں کیا،بلکہ آپؐ نے ایک بار اس کے شعر سنے تو آپؐ نے اس کے لیے ’’رحمت اﷲ‘‘فرمایا۔اور جس کو آپؐ یہ فرمایا کرتے تھے وہ شہیر ہو جایا کرتا تھا۔غرض اس طرح پر اگر فسق و فجور کے گیت نہ ہوں ،تو منع نہیں۔مگر مردوں کو نہیں چاہیے کہ عورتوں کی ایسی مجلسوں میں بیٹھیں۔یہ یادرکھو کہ جہاں ذرا بھی مظنّہ فسق و فجور کا ہو وہ منع ہے۔
بزہر و ورع کوش و صدق و صفا
و لیکن میفزائے بر مصطفیٰ
یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان خود ان میں فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے،مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔وہ منع ہے۔اور پھر جو اسراف کرتا ہے،وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر ریاکاری کرتا ہے،تو گناہ ہے۔غرض کوئی ایسا امر جس میں اسرافؔ،ریاؔ،فسق،ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو اُن سے صاف ہو وہ منع نہیں،گناہ نہیں۔کیونکہ اصل اشیاء کی حلّت ہے۔