کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔خدا تعالٰ خود انصاف ہے اور انصاف کو دوست رکھتا ہے۔وہ خود عدل ہے عدل کو دوست رکھتا ہے۔اس لیے ظاہری رشتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔جو تقویٰ کی تعایت کرتا ہے۔اسے وہ اپنے فضل سے بچاتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے۔اور اسی لیے اُس نے فرمایا : انا اکر مکم عند اﷲ اتقٰکم (الحجرات : ۱۴) پس ان مانظرہ میں متقی ہی کامیاب ہوگا۔ طائف عرب کی تجارنی اشیاء کا ذکر ہوتا رہا۔اور طائف کے ذکر پر فرمایا کہ: وہ گویا اس ریگستان میں بہشت کا نمونہ ہے ۔ اسی ذکر میں یہ بھی کہا گیا۔کہ عرب میں بازاروں میں ہر ایک چیز کبھی ختم نہیں ہوتی۔ہر وقت جس قدر چاہو میسر آسکتی ہے۔ برات کے ساتھ باجا بجانا میاں اﷲ بخش صاحب امرتسری نے عرض کیا کہ حضور یہ جو براتوں کے ساتھ باجے بجائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق حضور کیا حکم دیتے ہیں۔فرمایا : فقہاء نے اعلان بالدف کو نکاح کے وقت جائز رکھا ہے اور یہ اس لیے کہ پیچھے جو مقدمات ہوتے ہیں تو اس سے گویا ایک قسم کی شہادت ہو جاتی ہے۔ہم کو مقصود ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض چپ چاپ شادیوں میں نقصان پیدا ہوئے ہیں۔یعنی جب مقمات ہوئے ہیں تو اس قسم کے سوال اُٹھائے گئے ہیں۔غرض ان خرابیوں کو روکنے کے لیے اور شہادت کے لیے اعلان بالدّف جائز ہے اور اس صورت میں باجا بجانے منع نہیں ہے،بلکہ ہسبتوں کی تقریب پر جو شکر وغیرہ بانٹتے ہیں۔دراصل یہ بھی اسی غرض کے لیے ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو خبر ہو جاوے اور پیچھے کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر یہ اصل مطلب مفقود ہو کر اس کی جگہ صرف رسم نے لے لی ہے اور اس میں بھی بہت سی باتیں اور پیدا کی گئے ہیں۔پس ان کو رسوم نہ قرار دیا جاوے بلکہ یہ رشتہ باطہ کو جائز کرنے کے لیے ضروری امور ہیں۔یاد رکھو جن امور سے مخلوق کو فائدہ پہنچاہے،شرع اس پر ہرگز زد نہیں کرتی۔کیونکہ شرع کی خود یہ غرض ہے کہ مخلوق کو فائدہ پہنچے۔ آتشبازی اور تماشا وغیرہ یہ بالکل منع ہیں،کیونکہ اس سے مخلوق کو کوئی فائدہ بجز نقصان کے نہیں ہے۔اور باجابجانا بھی اسی صورت میں جائز ہے،جبکہ یہ غرض ہو کہ اس نکاح کا عام اعلان ہو جاوے۔