سے اس قدر خوفناک نہیں رہی ہیں۔لیکن اب طاعون کے حملوں سے ایک عالمگیر خوف ثھاگیا ہے اور یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کو اپنا ماویٰ وملجا بنایا جاوے۔غور کرکے دیکھو۔کہ کس قدر وحشت ہوسکتی ہے۔جب ایک گھر میں دو چار مردے پڑے ہوں اور کوئی اٹھانے اوالا بھی موجود نہ ہو۔غرض طاعون اب انسان کا جو ہر کھول کر دکھادیتی ہے۔مصیبت اور مشکلات بھی انسان کے ایمان کے پرکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ احسب اناس ان یتر کو اان یقو لو اامنا و ھم لا یفتنون (العنکبوت : ۳) اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیں جماعت کو بہت زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ یہ موت سب سے بڑھ کر منذرات میں سے ہے۔جو تبدیلی اس نظارہ موت سے ہو سکتی ہے۔وہ دوسری مُنذرات سے نہیں ہوتی۔ خدا تعالیٰ جو تبدیلی چاہتا ہے وہ اسی طرح ہوتی ہے۔یہ وقت ہے کہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں اور اس سے دعئیں مانگیں کہ ایک پاک تبدیلی انہیں عطا ہو۔جن لوگوں کی پاک تبدیلی خدا تعالیٰ دعائوں سے چاہتا ہے۔ان کی تبدیلی اس طرح پر ہوتی ہے کہ ا۲ن پر بلائیں اور خوف آتے ہیں۔جیسے فرمایا : ولنبلو نکم بشییٔ من الخوف والجوع۔الآیۃ (البقرہ : ۱۵۶) اگر انسان کے افعال سے گناہ دور ہو جاوے تو شیطان چاہتا ہے کہ آنکھ،کان،ناک تک ہی رہے اور جب وہاں بھی اُسے قابو نہیں ملتا۔تو پھر وہ یہان تک کوشش کرتا ہے کہ اور نہیں تو دل ہی میں گناہ رہے۔گویا شیطان اپنی لڑائی کو اختتام تک پہنچاتا ہے،مگر جس دل میں خدا کا خوف ہے،وہاں شیطان کی حکومت نہیں چل سکتی۔شیطان آخر اس سے مایوس ہو جاتا ہے اور الگ ہوتا ہے اور اپنی بڑائی میں ناکام و نامراد ہو کر اسے اپنے بوریابستر باندھنا پڑتا ہے۔بہت سے لوگ اس قسم کے ہیں کہ وہ نفسانی قیدوں اور ناجائز خیالات سے الگ ہونا نہیں چاہتے اور کوئی بات ان پر مؤثر نہیں ہوتی۔آخر خدا تعالیٰ اُن پر یوں رحم کرتا ہے۔کہ بعض ابتلا آجاتے ہیں،تو وہ آہستہ آہستہ اُن سے باز آجاتے ہیں۔ قوموں کا باہمی جدال اس وقت عام طور پر قوموں کا مناظرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیش آگیا ہے مگر اس میں فتح و نصرت اُسی کو ملے گی جو خدا کے نزدیک تقویٰ والی ہو اور زبان کو سنبھال کر رکھے۔بندوں پر ظلم نہ کرے۔ان کے حقوق کی رعایت کرے۔سفر میں ۔حضر میں بنی نوع انسان کی ہمدردی اور رعایت کرے جو خدا تعالیٰ اس کی رعایت کرتا ہے۔جب وہ تقویٰ دیکھتا ہے تووہ خود اس کا ولی اور مددگار ہوتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ