تھے اسی طرح پرفرعونیوں کی غلامی میں رہ کر بنی اسرائیل عدل کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے ان پر ہمیشہ ظلم ہوتا تھا وہ بھی اعتداء اور ظلم کر بیٹھے تھے پس ان کی اصلاح کے لئے تو پہلا مرحلہ یہی چاہئے تھا کہ ان کو عدل کی تعلیم سکھائی جاتی اس لئے یہ تعلیم ان کو دی گئی کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ۔اس تعلیم پر وہ اس قدر پختہ ہو گئے کہ پھر انہوں نے انتقام لینا ہی شریعت کی جان سمجھ لیا او رمذہب یہ ہو گیا کہ بدلہ نہ لیں تو گنہ گار ٹھہریں گے۔ اس واسطے جب حضرت مسیح علیہ السلام آئے اور انہوں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل کی حالت ایسی ہو گئی ہے تو انہوں نے حد درجہ عفو کی تعلیم دی کیونکہ جس قدر زور کے ساتھ وہ انتقام پر قائم ہو چکے تھے اگر اس سے بڑھ کر عفو کی تعلیم نہ دی جاتی تو وہ مؤثر ثابت نہ ہوتی اس لئے ان کی تعلیم کا سارا دارو مدار اسی پر بس رہا پس ان اسباب اور وجوہ کے لحاظ سے یہ دونوں تعلیمیں اگرچہ اپنی جگہ ہی حکمت ہیں لیکن ان کو قانون مختص المقام یا قانون مختص الوقت کی طرح سمجھنا چاہئے۔ ابدی اور دائمی قانون ……خدا تعالیٰ کی حکمتیں اور احکام دو قسم کے ہوتے ہیں بعض مستقل اور دائمی ہوتے ہیں بعضی آنی اور وقتی ضرورتوں کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں اگرچہ اپنی جگہ ان میں بھی ایک استقلال ہوتاہے مگر وہ آنی ہی ہوتے ہیں مثلاً سفر کے لئے نماز یا روزہ کے متعلق اور احکام ہوتے ہیں اور حالت قیام میں اور ۔ باہر جب عورت نکلتی ہے تو وہ برقع لے کر نکلتی ہے گھر میں ایسی ضرورت نہیں ہوتی کے برقع لے کر پھرتی رہے۔ اسی طرح پر توریت اور انجیل کے احکام آنی اور وقتی ضرورتوں کے موافق تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت اور کتاب لے کر آئے تھے وہ کتاب مستقل اور ابدی شریعت ہے اس لئے اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ کامل اور مکمل ہے قرآن شریف قانون مستقل ہے اور توریت ، انجیل اگر قرآن شریف نہ آتا تب بھی منسوخ ہو جاتیں کیونکہ کہ وہ مستقل اور ابدی قانون نہ تھے۔ میں نے بعض احمقوں کو اعتراض کرتے سنا ہے کہ ایسا کیوںکیا گیا۔خدا تعالیٰ نے پہلی کتابوں کو کیوں منسوخ کیا ، کیا اس کو علم نہ تھا پہلے ہی مکمل اور مستقل ابدی شریعت بھیجنی تھی ۔ یہ اعتراض بالکل نادانی کا اعتراض ہے۔ کیونکہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہر نسخ کے لئے ضروری ہے کہ علم نہ ہو اگریہ صحیح ہے کہ ہر نسخ میں عدم علم ثابت ہوتا ہے تو پھر اس بات کا کیا جواب کہ جو کپڑے برس یا دو برس کے بچے کو پہنائے جاتے ہیں کیوں وہی کپڑے پانچ ، دس یا پچیس برس کے ایک جوان کو نہیںپہنائے