بھی یاد رکھو کہ انبیاء کی زندگی اسی وقت تک ہوتی ہے جبتک مصائب کا زمانہ رہے۔اس کے بعد جب فتح و نصرت کا وقت آتا ہے۔تو وہ گویا اُن کی وفات کا ایک پروانہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اس کام کو کر چکے ہوتے ہیں جس کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔اور اصل تو یہ ہے۔ کہ کام تو اﷲ کے فضل سے ہوتے ہیں۔مفت میں ثواب لینا ہوتا ہے۔جو شخص اس مین بھی خود غرضی۔سستی۔ریا کی آمیزش کرے۔وہ اصل ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔ انی احافظ کل من فی الدار کی تائید میں ایک عرصہ ہوا میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا میر ناصر نواب ایک دیوار بنارہے ہیں۔جو فصیلِ شہر ہے۔میں نے اس کو جودیکھا تو خوف آیا،کیونکہ وہ قد آدم بنی ہوئی تھی۔خوف یہ ہوا کہ اس پر آدمی چڑھ سکتا ہے۔مگر جب دوسری طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ ڈادیان بہت اونچی کی گئی ہے،اس لیے یہ دیوار دوسری طرف سے بہت اونچی ہے اور یہ دیوار گویا ریختہ کی بنی ہوئے ہے۔فرش کی زمین بھی پختہ کی گئے ہے۔اور غور سے جو دیکھا تو وہ دیوار ہمارے گھروں کے ارد گرد ہے۔اور ارادہ ہے کہ ڈادیان کے ارد گرد بھی بنائی جاوے۔شاید اﷲ رحم کر کے ان بلائوں میں تخفیف کر دے۔؎ٰ قادیان میں چند موتیں آج معمولی موسی عوارض بخار وغیرہ سے یہاں کے چوڑھوں اور دوسری اقوام میں دو موتیں ہو گئے تھیں۔اس کا ذکر آیا۔فرمایا : ایسی موتیں محرقہ تپ سے بھی ہوتی ہیں۔طاعون کے حملے ہی الگ ہوتے ہیں۔کوئی جنازہ پڑھنے اور اُٹھانے والا بھی نہیں ملتا۔بعض وقت ایک گھر میں جب یہ بلا داخل ہوتی ہے،تو اس گھر کے گھر صاف کر دیتی ہے۔اور عورتوں بچوں تک کو تو ہوتی ہی ہے۔جانوروں کو بھی ہو جاتی ہے۔ بلائوں اور خوف کی افادیت طاعون بجائے خود انسان کے ایمان کے پرکھے جانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔اب طاعون تو مان نا مان میں تیرا مہمان ہو کر آئی ہے۔اگر طاعون نہ ہوتی تو سچے مسلمان کا پتہ لگنا ہی مشکل ہوتا۔جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔وہ اس وقت طاعون کو دیکھ کر جلد تبدیلی کرتے ہیں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ معمولی موتیں جو ہر روز ہوتی رہتی ہیں۔یہ گو انسان کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہیں۔اگر وہ ان سے عبرت حاصل کرے۔لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ وہ ناکافی ہیں اور وہ دنیا کے تعلقات پر موت وارد کرنے کے لیے اس قدر مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہوتی ہیں جس قدر کہ اب طاعون۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ معمولی موتیں اب معمولی موتیں ہونے کی وجہ