کو پڑھ کر ہو گی۔اور بعض روحیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ثبوت کی تلاش میں ہیں۔اُن کو نزول المسیح میں پورا ثبوت ملے گا۔اور اس سے فائدہ پہنچے گا۔بعض صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امام کی کیا ضرورت ہے۔ان کے لیے بھی یہ مفید ہوگی۔پس یہ دو قسم کی اشاعت اچھی ہے۔اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو اس سے فائدہ پہنچے گا۔
المومنؔ اور الناسؔ
ثبوت اس قسم کے دیئے ہیں کہ اﷲ اکبر ! یہانتک کہ مشہودات اور محسوسات سے ایمان کی تقویت ہوتی ہے،لیکن جو ایمانی فراست سے حصہ رکھتے ہین۔وہ پہلے ہی سمجھ لیتے ہیں۔جو لوگ حق قبول کرت یہٰن وہ اسی وقت فراست والے کہلائے ہیں۔جب وہ اول ہی اول قبول کرتے ہیں۔خدا جو مومنوں کی تعریف کرتا ہے اور
رضی اﷲ عنہم ورضو اعنہ (البینۃ : ۹)
کہتا ہے،اس لیے کہ اُنہوں نے اپنی فراست سے پہلے رسول اﷲ کو مان لیا۔لیکن جب کثرت سے لوگ داخل ہونے لگے۔اور انکشاف ہوگیا۔اس وقت داخل ہونے والے کا نام الناس رکھا۔اس حالت میں تو گویا منع کرتا ہے یہ کہہ کر
قالت الاعراب امنا قل لم تؤ منو ا ولکن قولو ااسلمنا (الحجرات : ۱۵)
یعنی یہ مت کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی۔ایمان اس وقت ہوتا ہے،جب ابتلاء کے موقع آویں۔جن پر ایمان لانے کے بعد ابتلا کے موقعے نہیں آئے۔وہ اسلمنا میں داخل ہیں۔اُنہوں نے تکلیف کا نشانہ ہو کر نہیں دیکھا،بلکہ وہ اقبال اور نصرت کے زمانہ میں داخل ہوت ۔یہی وجہ ہے کہ فخر کا نام اور خطاب ان کو نہ ملا۔بلکہ الناس ان کا انم رکھا،کیونکہ وہ ایسے وقت میں داخل ہوئے جب کام چل پڑا۔اور رسول اﷲ نے اپنی صداقت کی روشنی دکھلائی۔اس وکت دوسرے مذاہب حقیر نظر آئے،تو سب داخل ہو گئے۔
انبیاء کا استغفار
نبی بہت بڑی ذمہ داری لے کر آتا ہے۔اس لیے جب وہ اپنے کام کو کر چکتا ہے اور تبلیغ کر کے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔تو وہ وقت اس کا گویا خدا تعالیٰ کو چارج دینے کا ہوتا ہے۔ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ جس پر اپنا فضل کرتا ہے اس پر استغفار کا لفظ بولتا ہے۔اسی طریق کے موافق رسول اﷲ کو بھی ارشادِ الٰہی ہوتا ہے
فسبح بحمد ربک واستغــفـرہ انہ کان توابا (النصر : ۴)
خدا تعالیٰ ہر ایک نقص سے پاک ہے اور جو کچھ سہو بشریت کی رو سے اس ذمہ داری کے کام میں ہوا ہے… تو اس سے استغفار چاہو۔جس کے سپرد ہزاروں کام ہوں۔اس کے لیے ضروری ہے۔اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تو مقاصد عظیم الشان لے کر آئے تھے۔غرض یہ ایک چارج تھا جو آپ نے اﷲ تعالیٰ کو دیا۔اور جس میں آپ کی پوری کامیابی کی طرف پہلے اشارہ کر دیا۔اور یہ سورہ گویا آنحضرتؐ کی وفات کا ایک پروانہ تھا۔یہ