جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں،سید خصیلت علی شاہ۔ایوب بیگ۔منشی جلال الدین خدا ان سب پر رحم کرے۔
طاعون بیدار کرنے کا ذریعہ ہے
طاعون بھی ایک طرح اچھی ہی ہے،کیونکہ یہ غفلت سے بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔اگر یہ سر پر نہ ہو،تو اس زمانہ میں شاید خوف ہی نہ رہے۔بڑے بڑے موذی طبع مفسد لوگوں کو بھی دیکھا ہے۔جہاں ہیضہ زور سے پڑتا ہے۔تو ان کے بھی خون خسک ہو گئے ہیں اور اپنے اپنے طور پر ڈر گئے ہیں۔ بعض دانشمند کہت یہیں کہ نفس چونکہ باز نہیں آتا ۔اس لیے ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی محرک ہی ہو۔اس دنیا کا انجام کا رخاتمہ ہونا ہے اور دوسرا عالم بھی یقینی ہے اور وہ زندگی کا عالم ہے۔خواہ پہلی بار ہی اگر وہاں جاکر آنکھ کھلی اور بُرے آثار ہوں تو پھر بڑے مشکلات ہیں۔یہ بھی خدا کا بڑا رحم ہے،جو اس مردود ملک پر طاعون کا تازیانہ بھیج دیا۔جس سے غفلت دور ہوتی ہے۔خدا کی سنت ہے کہ جب انسان بہت ہی سخت دل ہو جاوے تو ایسے عذاب بھیج دیتا ہے۔انسان معمولی موت سے نہیں ڈرتا۔مگر اب جیسے ایک بڈھا اپنے آپ آپ کو قریب بہ قبر سمجھتا ہے۔ویسے ہی بیس برس کا نوجوان بھی۔غفلت اور شہوات کا نسہ ایسی چیز ہے کہ جب معمولی موت سے انسان نے سبق نہ لیا طاعون بھیج دی جو عذاب کی شکل میں ہلاک کر رہی ہے۔
الاستفتاء من ندوۃ العلماء
اس کے بعد مولانا مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنے عربی قصیدہ سنایا جو مندرجہ حاشیہ عنوان سے اُنہوں نے دو تین گھنٹہ میں لکھا ہے۔جب وہ قصیدہ پڑچکے تو مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی نے پنجابی نظم سنائی اور بعد نماز عشاء دربار ختم ہوا۔
۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
صبح کی سیر
اشاعتِ کُتب
نزول المسیح اور کشتی نوح کے متعلق تذکرہ پر فرمایا۔کہ کشتی نوح الگ بھی تقسیم ہو اور نزول المسیح کے ہمراہ بھی۔کیونکہ تقسیم کے وقت ہر ایک اپنی اپنی الگ سمت اختیار کرتا ہے۔دنیا میں یہ دون٭ن قوتیں جاذبہ اور مجذوبہ ہیں۔اور ان کا اثر بھی برابر جاری ہے۔اس لیے اس قسم کی تقسیم سے یہ فائدہ ہوگا۔کہ جو روحیں صرف تعلیم کی تلاش میں ہیں۔ان کی سیری اس تعلیم