ہے۔پھر ان انسانوں میں سے بھی جو سب سے زیادہ قابل قدر ہے۔اسے اﷲ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے۔اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اپنا سچا تعلق رکھتے اور اپنے اندرونہ کو صاف رکھتے ہیں۔اور نوعِ انسان کے ساتھ خیر اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔اور خدا کے سچے فرماں بردار ہیں؛چنانچہ قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے قل ما یعبؤ بکم ربی لو لا دعا ؤ کم (الفرقان : ۷۸) اس کے مفہوم مخالف سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ دوسروں کی پرواہ کرتا ہے اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو سعادت مند ہوتے ہیں۔وہ تمام کسریں ان کے اندر سے نکل جاتی ہیں جو خدا سے دور ڈال دیتی ہیں اور جب انسان اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے صلح کر لیتا ہے،تو خدا اس کے عذاب کو بھی ٹلا دیتا ہے۔خدا کو کوئی ضد تو نہیں؛چنانچہ اس کے متعلق بھی صاف طور پر فرمایا ہے ما یفعل اﷲ بعذا بکم ان شکر تم (النسأ : ۱۴۸) یعنی خدا نے تم کو عذاب د یکر کیا کرنا ہے۔اگر تم دیندار ہو اجئو۔طاعون بڑا خطرناک عذاب ہے۔بیوی بچے ہی نہیں تباہ ہوتے بلکہ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ جنازہ کا بھی کوئی انتظام نہیں ہو سکتا مرنے والا تو مر جاتے ہے دوسرے جو زندہ رہتے ہیں۔وہ بیھ مفقود العقل اور زندہ درگور ہوتے ہیں۔ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ گھر والے مردہ کو باہر پھینک آئے ہیں اور کنوں نے اس کو کھایا۔اور وہ بھی طاعون سے ہلاک ہو گئے۔اس خوفناک مرض میں تعہدّ خدمت کا بھی نہیں ہو سکتا۔تیمارداروں کو نفرت اور خوف ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے قل ما یعبؤ ا بکم ربی لولا دعا ؤ کم (الفرقان : ۷۸) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا منشاء یہ ہے کہ جیسے تم نے میرے شعار کو چھوڑ دیا۔میں تمہاری بھی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔تجہیزوتکفین بھی ایک شعار ہے۔ارو اب تو یہ رسم ہو گئے ہے اور اس سے بڑھ کر نہیں۔مُلّا آتا ہے تو اس کی غرض چادر لینا ہوتا ہے۔جنازہ کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔تو اس کا ایک لفظ آگے نہیں جاتا۔بلکہ وہ تو یہی سوچتا رہتا ہے۔کہ کچھ نمک۔دانے اور پیسے ملیں گے۔اور پھر دیکھتا ہے کہ مردہ کے کپڑوں سے کوئی حصہ ملے گا۔غرض یہ تو مال تک بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔اپنے حقوق ہی جتاتے رہتے ہیں۔ جماعت ایک کنبہ ہے حضرت اقدسؑ یہانتک بیان کر چکے تھے کہ ایک تارآگیا۔یہ تار مولوی غلام علی صاحب رہتا سی کی طرف سے تھا کہ میں بیمار ہو گیا ہوں۔میرے لیے ڈولی نہ بھیجو۔کچھ عرصہ تک حضرت مولوی صاحب کی بیماری کا ذکر کرتے رہے اور حالات پوچھتے رہے۔پھر فرمایا کہ : ہماری جماعت جو اب ایک لاکھ تک پہنچی ہے۔سب آپس میں بھائی ہیں۔اس لیے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔جو گزر گئے وہ بیھ بڑے ہی مخلص تھے۔