دربار ختم ہوا۔ ۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ سیر آج کی سیر میں طاعون کے متعلق ادھر اُدھر کی مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ ظہر تحفۃالندّوَہ کے متعلق جو جدید اشتہار حضرت حجۃاﷲ نے لکھا ہے۔وہ ایک جزو کے قریب ہو گیا۔آپؑ نے فرمایا کہ : اب اس کو رسالہ کی صورت میں شائع کیا جائے۔کتاب میں ایک برکت ہوتی ہے۔لوگ اشتہار کو اشتہار سمجھ کر پرواہ نہیں کرتے۔اس پرٹائیٹل پیج لگایا جاوے۔برہنہ مرد کب اچھا معلوم ہوتا ہے۔ٹائیٹل پیج اس کا لباس ہے۔اور اس کا نام تحفۃالندّوہ رکھ دو۔ آج تحفہ غزنویہ بیھ شائع ہو گیا۔چونکہ ندوہ کا اجلاس قریب ہے اور کشتی نوح کی اشاعت میں بھی جلدی ہے۔کثرتِ کام کی وجہ سے جو چار پریسوں پر ہو رہا ہے۔سب پتھر رُکے پڑے تھے۔عرض کیا گیا کہ کشتی نوح کی اشاعت میں دیر نہ ہو جائے۔فرمایا :۔ ٹیکہ کے متعلق جو ہمارا اصل منشاء تھا وہ الحکم کے ذریعہ شائع ہو گیا اور گورنمنٹ تک بھی پہنچ گیا اگر یہ رسالہ دو روز توقف سے بھی شائع ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (الحکم ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁) بینالمغرب و العشاء طاعون کا ذکر بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔اور طاعون کا ذکر چلنے پر فرمایا : خواہ کچھ ہی ہو اگر کوئی چاہے کہ یہ بلا ارضی تدابیر سے ٹل جاوے تو یہ محال ہے۔خدا کا ایک قانون ہے کہ جس قدر کوئی قابل قدر ہے اُسی قدر اُسے بچایا جاتا ہے۔دیکھو شہروں میں جو بکرے ذبح ہوتے ہیں۔وہ ان کیروں مکوڑوں سے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔جو پائوں کے نیچے آکر ہر روز مارے جاتے ہیں۔اور بکروں کی نسبت گائے زیادہ مفید ہے وہ اس کی نسبت کم ذبح ہوتی ہیں۔اور اُونٹ اس سے زیادہ مفید ہے وہ اس کی نسبت کم ذبح ہوتا ہے۔اس سے اصف معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر قابل قدر جانور ہے اسی قدر کم ذبح ہوتا ہے۔انسان ان سب سے زیادہ قابل قدر ہے۔اس پر وہ چھری نہیں چلتی جو اُن جانوروں پر چلائی جاتی