چھوٹا ڈرار دیا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ ان کی نصرانیت کی قلعی کھولی جاوے۔اباحتی زندگی کو اسلام ٹھہراتے ہیں۔جو کچھ گند اس کتاب کے اندر ہے۔وہ اس نام ہی سے ظاہر ہے۔پس نصاریٰ کے اسلام کی حقیقت ضرور کھولنی چاہیے۔اسلام کا لفظ صرف قرآن نے ہی اختیار کیا ہے اور کسی نے یہ نام اختیار نہیں کیا۔
مسیح کی آمدِ ثانی
اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا کہ لاہور سے کسی مارکوئیس نام عیسائی نے بذریعہ خط دریافت کیا ہے۔کہ اس کے کیا معنے ہیں جو متی کی انجیل میں لکھا ہے کہ جھوٹے مسیح او رنبی آئیں گے؟ حضرت نے فرمایا کہ :
اس کا جواب لکھ دیا جاوے اور اس سے پوچھا جاوے کہ یہ جو انجیل میں لکھا ہے۔کہ چور کی طرح آئوں گا۔اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا مسیح کا نام منافق بھی ہے۔کہیں بادلوں میں آنا لکھا ہے اور کہیں چور کی طرح۔ہم تو حَکم ہو کر آئے ہیں۔پہلے ان ساٹھ ستر اناجیل کا تو فیصلہ ہو لے کہ کون اُن میں سے سچی ہے اور کون جھوٹی۔ہم تو ایسے وقت آئے ہیں کہ ا س آیت کو پیش کرتے ہوئے بھی ان کو شرم آنی چاہیے۔کیونکہ ان کے حساب کے موافق تو مسیح کی آمد پر بیس برس گذر گئے۔اب تو قانونی معیاد بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہی۔اس لیے بعض اب مایوس ہو کر کلیسیاہی کو مسیح کی آمد ٹھہراتے ہیں اور اسی قسم کی بیجا اور رکیک تاویلیں کرتے ہیں۔پس اب جبکہ ان کے حساب اور اعتقاد کے موافق اب سچے مسیح کو بھی قدم رکھنے کو جگہ نہیں تو پھر فرشنوں کے ساتھ آنا اور وہ جلالی آمد تو غلط ہی ٹھہری۔چور کی طرح آنا ہی صحیح ثابت ہوا۔پہلے اپنے گھر میں اناجیل کا فیصلہ کر لیں۔جھوٹے مسیح جو لکھا ہے تو اب تو سچے کا وقت بھی گذر گیا۔تم خود بتائو کہ یہ زمانہ سچے مسیح کا ہے یا جھوٹے مسیح کا۔تمہارے بزرگوں نے مان لیا ہے۔اسی لئے جو عقلمند ہیں وہ اس مضمون کا ذکر بھی نہیں کرتے۔کیسی عجیب بات ہے کہ اس صدی سے آگے نہ کوئی مسلمان گیا ہے،نہ عیسائی۔نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ تمام کشوف اور الہام جو مسیح کے متعلق ہیں وہ چودھویں صدی س ےآگے نہیں جعتے۔لدھیانہ میں بھی ایک مرتبہ ایک عیسائی نے یہ سوال کیا تھا،مگر وہ ایسا لاجواب ہوا کہ آخر اس نے اعتراف کر لیا اور بعض عیسائی اس سے ناراض بھی ہو گئے۔
اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی نے اپنی پنجابی نظم و فاتِ مسیح پر پڑھی۔بعد نماز عشاء