’’ اب اس تعلیم پر نگاہ کرو کہ نہ یہ توریت کی طرح محض انتقام پر ہی زور دیتی ہے اور نہ انجیل کی طرح ایسے عفو پر جو بسا اوقات خطرناک نتائج کا موجب ہو سکتا ہے بلکہ قرآن شریف کی تعلیم حکیمانہ نظام اپنے اندر رکھتی ہے مثلاً ایک خدمتگار ہے جو بڑا شریف اور نیک چلن ہے کبھی اس نے خیانت نہیں کی او رکوئی نقصان نہیں کیا اگر اتفاقا وہ چاء پلانے کے لئے آئے اور اس کے ہاتھ سے چائے کی پیالیاں گر کر ٹوٹ جاویں تو اس وقت مقتضائے وقت کیا ہو گا کیا یہ کہ اس کو سزادیں یا معاف کر دیںایسی حالت میں ایسے شریف خدمت گار کو معاف کر دینا اس کے واسطے کافی سزا ہو گی۔لیکن ایک شریر خدمتگار جو ہر روز کوئی نہ کوئی نقصان کرتا ہے اس کو معاف کردینا اور بھی دلیر کر دینا ہے اس لئے اس کو سزا دینی ضروری ہوگی مگر انجیل یہ نہیں بتاتی انجیل پر عمل کر کے تو گورنمنٹ کو چاہئیے کہ اگر کوئی ہندوستان مانگے تو وہ انگلستان بھی اس کے حوالے کرے۔ کیا عملی طور پر انجیل مانی جاتی ہے ہرگز نہیں گورنمنٹ کے سیاست مدن کے اصولوں پر مختلف محکموں کا قائم کرنا اور عدالتوں کا کھولنا دشمن کی حفاظت کے لئے فوجوں کا رکھنا وغیرہ وغیرہ جس قدر بھی امور ہیں انجیل کی تعلیم کے موافق نہیں ہیں اس لئے انجیل کی تعلیم کے موافق کوئی انتظام ہو سکتا ہی نہیں۔
غرض قرآن شریف کی تعلیم جس پہلو اور جس باب میں دیکھو اپنے اندر حکیمانہ پہلو رکھتی ہے افراط یا تفریط اس میں نہیں ہے بلکہ وہ نقطۂ وسط پر قائم ہوئی ہے اور اسی لئے امت کا نام بھی
امۃ وسطا ( البقرۃ:۱۴۴)
رکھا گیا ہے ۔یہ بات کہ انجیل یا توریت کی تعلیم کیوں اعتدال اور وسط پر واقع نہیں ہوئی اس سے خدا تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہیں آتا اور نہ ہی اس کی تعلیم کو ہم خلاف آئین و حکمت کہہ سکتے ہیں کیونکہ حکمت کے یہی معنی ہیں کہ وضع الشیئی فی محلہ۔ اس وقت کی حکمت کا تقاضا ایسی ہی تعلیم تھی ۔ جیسا کہ ہم نے بتایا ہے کہ سزا کے وقت سزا دینا بھی حکمت ہے اور عفو کے وقت عفو ہی حکمت ہے اسی طرح پر اس وقت طبائع کی حالت کچھ ایسی ہی واقع ہوئی تھی کہ تعلیم کو ایک پہلو پر رکھنا پڑا۔ بنی اسرائیل چار سو برس تک فرعون کی غلامی میں رہے تھے اس وجہ سے ان لوگوں کے عادات اور رسوم کا ان پر بہت اثر پڑا ہوا تھا اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کے اطوار و عادات اور آئین ملک داری کا اثر رعایا پر پڑتا ہے بلکہ ان کے مذہب تک کا اثر جا پڑتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ الناس علی دین ملوکہم ۔ چنانچہ سکھوں کے زمانہ میں عام لوگوں پر بھی یہ اثر پڑا تھا کہ لوگ عموما ڈاکہ زن اور دھاڑوی ہو گئے تھے۔ ہری سنگھؔ و غیرہ براتیں ہی لوٹ لیا کرتے