آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تکلیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہو گیا۔دعامیں خدا تعالیٰ کے ساتھ شرط باندھنا بڑی غلطی اور نادانی ہے۔جن مقدس لوگوں نے خدا کے فضل اور فیوض کو حاصل کیا۔انہوں نے اس طرح حاصل کیا کہ خدا کی راہ میں مر مر کر فنا ہوگئے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کی خوب جانتا ہے۔جو دس دن کے بعد گمراہ ہو جانے والے ہوتے ہیں۔وہ اپنے نفس پر خود گواہی دیتے ہیں جبکہ لوگوں سے شکوہ کرتے ہی۔کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔
ہم لوگوں کی شامت اعمال کو روک نہیں سکتے۔وہ لوگ نامراد رہیں گے۔جو ولی اور مامور کا یہ معیار ٹھہراتے ہیں کہ اس کی ہر دعا اسی طرح قبول ہو جائے گی۔جس طرح وہ چاہتے ہیں۔اور جو ولی یا مامور ہونے کا مدعی ایسا دعویٰ کرے وہ بھی کذاب ہے۔حضرت یعقوبؑ چالیس برس تک دعا کرتے ہوں گے؟ جو لوگ آسمانی علوم سے ناواقف ہیں وہ ان اسرار کو نہیں سمجھ سکتے۔ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور وہ اندھا ہو گیا۔اس نے کہا کہ اسلام میرے لیے مبارک نہیں،اس لیے مرتد ہو گیا۔ایسے لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔میں نے ایک جگہ دیکھا ہے کہ امام حسین رضیاﷲ عنہ فتوحات کے لیے دعا کرتے تھے۔ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔آپؐ نے فرمایا کہ تیرے لیے شہادت مقدر ہے اگر تو صبر نہ کرے گا تو اخیار ابرار کے دفتر سے تیرا نام کٹ جائے گا۔
نماز بھی ظہر ہی سے شروع ہوتی ہے جو زوال کا وقت ہے۔یہانتک کہ غروب تک بالکل تاریکی میں جا پڑتا ہے اور رات میں دعائیں کرتا ہے۔یہانتک کہ صبح میں سے جا حصہ لیتا ہے۔نماز کی تقسیم بھی بتاتی ہے کہ خدا نے اس تقسیم میں ایک صبح اور باقی چار ایسی رکھی ہیں جو تاریکی سے حصہ رکھتی ہیں؛ورنہ ممکن تھا کہ اقبال تک ختم ہو جاتیں۔
ایسا ہی سورۃ فاتحہ میں ایا ک تعبد و ایاک نستعین ایسے لفظ رکھے ہیں ج اس وقت منشاء کو ظاہر کرتے ہین۔ ایا ک نعبد کسے صاف پایا جاتا ہے کہ کچھ نہیں چاہتے ۔تیری عبادت کرتے ہیں اور ایاک نستعین سے دعا کرتے ہیں۔گویا ایاک نعبود اور ایاک نستعین میں ادعونی استجب لکم اور لنبلونکم کو ملا ہے۔نعبد تو یہی ہے کہ بھلائی اور برائی کا خیال نہ رہے۔سلب امید و امانی ہو۔اور ایاک نستعین میں دعا کی تعلیم ہے۔