کی ضرورت ہے تا کہ وہ صدق و صفا اور ثبات میں کامل ثابت ہو۔ پھر دعا کرانے والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صابر ہو۔جلد باز نہ ہو۔جو ذرا سی بات پر دجال کہنے کو تیار رہے۔پس وہ کیا فائدہ اٹھائے گا۔اسے تو چاہیے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرے۔اور حسن ظن سے کام لے۔ جب خدا تعالیٰ نے لنبلو نکم فرمایا ہے،تو صبر کرنے والوں کے لیے بشارت دی اور اولئک علیہم صلوات بھی فرمایا ۔میرے نزدیک اس کے یہی معنی ہیں کہ قبولیت دعا کی ایک راہ نکال دیتا ہے۔حکام کا بھی یہی حال ہے کہ جس پر نارض ہوتے ہیں اگر وہ صبر کے ساتھ برداشت کرتا اور شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا تو اسے ترقی دیدیتے ہیں۔قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ابتلا آویں جیسے فرمایا۔ احسب الناس ان یتر کو اان یقولو اا منا وھم لا یفتنون (العنکبوت : ۳) یعنی کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف امنا کہنے سے چھوڑے جائیں اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں۔ انبیاء علیہم السلام کو دیکھو۔اوائل میں کس قدر دکھ ملتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ کو مکی زندگی میں کس قدر دکھ اٹھانے پڑے۔طائح میں جب آپ گئے تو اس قدر آپ کے پتھر مارے کہ خون جاری ہو گیا۔تب آپؐ نے فرمایا کہ کیسا وقت ہے۔میں کلام کرتا ہوں اور لوگ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہا کہ اے میرے ربّ! میں اس دکھ پر صبر کروں گا جبتک کہ تو راضی ہو جاوے۔ اولیاء اور اہل اﷲ کا یہی مسلک اور عقیدہ ہوتا ہے۔سید عبدالقادر جیلانی لکھتے ہیں کہ عشق کا خاصہ ہے کہ مصائب آتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا ہے۔ ؎ عشقا ! برآ ! تو مغز گرداں خوردی با شیر دلاں چہ رستمی ہا کردی اکنوں کہ بما روئے نبرد آوردی ہر حینہ کہ داری نکنی نا مردی مصائب او ر تکالیف پر اگر صبر کیا جاوے اور خدا تعالیٰ کی قضا کے ساتھ رضا ظاہر کی جاوے تو وہ مشکلکشائی کا مقدمہ ہوتی ہے۔ ہر بلا کیں قوم را اور دادہ است زیر آں یک گنج ہا بنہادہ است