بوقتِ ظہر
خواجہ غلام فرید صاحب کا ذکر خیر خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے کا ذکر ہوا: فرمایا
اس نے اپنے خط میں بڑی صفائی سے لکھ دیا تھا کہ میں آپ کے دعویٰ کا مصدق ہوں۔اور میں نے کبھی ساری عمر بدظنی نہیں کی۔یہ ایسا کام تھا جو دوسرے گدی نشینوں سے نہیں ہوا۔اور کسی نے خط کا جواب تک نہیں دیا اور کسی کو ایسی توفیق نہیں ملی۔میرے خیال میں وہ نیکی جو اس کی طبیعت میں سخاوت تھی اسی کا یہ ثمرہ تھا کہ اس تصدیق کی توفیق ملی۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک سخص مسلمان ہوا۔وہ اسلام لانے سے صہلے بڑا سخی تھا۔اس نے عرض کی کہ یا رسول ؐ اﷲ میں نے اسلام سے پہلے جو سخاوت کی ہے،اس کا بھی کوئی اجر ملے گا۔فرمایا وہی روپیہ تو تجھے اسلام میں کھینچ لایا ہے۔
بوقت عصر
حافظ محمد یوسف ضلعدار کے اشتہار کا ذکر
حافظ محمد یوسف ضلعدار کی باسی کڑھی کو پھر اُبال آیا۔تحفہ گولڑویہ کی اشاعت پر اس نے اشتہار دیا ہے۔ کہ
لو تقول علینا (الحاقہ : ۴۵)
پر جو اس سے مطالبہ کیا گیا۔کہ کوئی ایسا مفتری پیش کرو جس نے خدا پر تقول کیا ہو اور اپنے ان مفتریات کو شائع کیا ہو اور پھر اس نے ۲۳ برس کی مہلت پائی ہو۔تو پانچ سو روپیہ انعام دیا جاوے گا۔اس طرح پر قطع الوتین ایک لغو سا اشتہار کسی امر تسری عطارنے دیا تھا۔حافظ صاحب نے اپنے اشتہار میں اسی کا حوالہ دیکر اس بوجھ کوگردن سے اتارا۔اور ندوہؔ کے جلسہ میں حضرت کو بلایا ہے۔حضرت حجۃاﷲ نے تجویز فرمایا کہ اس کے متعلق ایک مختصر اشتہار ندوہؔ کو مخاطب کر کے لکھا جاوے۔چونکہ وہ اشتہار الگ طبع ہونا ہے جو کسی وقت الحکم میں شائع ہو جاوے گا۔انشاء اﷲ العزیز اس لیے ضرورت نہیں کہ اس مضمون کا اعادہ یہاں اپنے لفظوں میں کیا جاوے۔