کہ قرآن سریف میں لکھا ہوا ہے اد عونی استجب لکم (المومن : ۶۱) لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔ ولنبلونکم بشی من الخوف والجوع (البقرہ : ۱۵۶) ا لآیتہ۔اد عونی استجب لکم میں اگر تمہاری مانتا ہے تو لنبلو نکم میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے؛ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہر گز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے۔ ولنبلونکم بشی من الخوف جو فرمایا۔تو اس مقام پر وہ اپنی منوانا چاہتا ہے۔کبھی کسی قسم کا خوف آتا ہے اور کبھی بھوک آتی ہے۔ اور کبھی مالوںپر کمی واقع ہوتی ہے۔تجارتوں میں خسارہ ہوتا ہے اور کبھی ثمرات میں کمی ہوتی ہے۔اولاد ضائع ہوتی ہے او رثمرات برباد ہو جاتے ہیں اور نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں۔ایسی صورتوں میں خدا تعالیٰ کی آزمائش ہوتی ہے۔اس وقت خدا اپنی شان حکومت دکھانا چاہتا ہے اور اپنی منوانا چاہتا ہے۔اس وقت صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہوہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اس پر خوش ہو جاتا ہے۔کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وبشر الصابرین (البقرہ : ۱۵۶) پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو۔یہ نہیں فرمایا کہ دعا کر نیوالوں کو بشارت دو،بلکہ صبر کرنے والوں کو۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اگربظاہر اپنی دعائوں میں ناکامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خدا تعالیٰ رضا کو مقدم کرے۔اہل اﷲ کو نظر آجاتا ہے کہ یہ کام ہونہار ہے۔پس جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں؛ورنہ قضاوقدر پر راضی رہت یہیں۔اہل اﷲ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہین تو دعا کرتے ہیں،لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضا وقدر اس طرح پر ہے،تو صبر کرتے ہیں۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا۔جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ دو تقسمیں رکھ دی ہیں اور یہ اس کی سنت ٹھہرچکی ہے اور یہ بھی اس نے فرمایا ہے۔ لن تجد لسنۃاﷲ تبدیلا (الفتح : ۲۴) پھر کس قدر غلطی ہے جو انسان اس کے خلاف چاہے۔میں نے بارہا بتایا ہے کہ انسان نے خدا کے ساتھ دوستانہ معاملہ رکھا ہے۔کبھی ایک دوست دوسرے کی مان لیتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے۔اور دعا بندہ اور خدا میں بھاجی کی طرح ہیں۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کمزور رعایا کی طرح ہر بات مان لے۔تو یہ نقص ہے۔ماں بھی بچہ کی ہر بات نہیں مان سکتی۔کبھی بچہ آگ کی انگاریاں مانگتا ہے۔تو وہ کب دیتی ہے۔یا مثلاً آنکیں دکھتی ہوں تو ا۲سے زنک یا اور کوئی دوا ڈالنی ہی پڑتی ہے۔اس طرح پر بندہ چونکہ تکمیل کا محتاج ہے۔اُسے ماروں