خدا تعالیٰ جس کام کو کرنا چاہتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔چاروں طرف سے ایسے اسبا ب جمع ہوتے ہیں اور ایسا زور اور دبائو آکر پڑتا ہے کہ آخر وہ کام ہو ہی جاتا ہے۔بڑے بڑے رجے مہارا جے جو بعض اوقات مسلمان ہوئے۔خدا تعالیٰ کی مرضی اس طرح پر تھی۔چاروں طرف سے ایسا زور آکر پڑا کہ بجز اسلام کے چارہ نہ رہا۔ خدا کی مہلت سے فائداٹھانا چاہیے مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یک جاجمع نہیں ہو سکتے۔سنۃاﷲ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بلا کو ہم ٹلا دیئے ہیں،تو انسان بیباک ہو کر کہتا ہے کہ بلا ٹل گئے اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اﷲ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ مسیح موعود کے وقت میں وبا کا پھیلنا عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک تو مسلم ہی ہے۔ہندو بھی مانتے ہیں کہ آخری دنوں میں ایک وبا ہو گی اور اس وقت آنے والے کا نام رودّر گوپال ہوگا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام فرقوں میں جیسے آخری دنوں میں ایک موعود کے آنے کا عقیدہ مشترک ہے ویسے ہی یہ بھی مانا گیا یہ کہ اس وقت وبا پڑے گی۔ آدابِ دعا پس دعائوں سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہیے۔کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے۔اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی س یاس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پرواہ کر سکتا ہے۔دیکھو اگر ایک سائل کسی کے پاس آجاوے اور اپنے عجز اور غربت ظاہر کرے،تو ضرور ہے کہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو۔لیکن ایک شخص جو گھوڑی پر سوار ہو کر آوے اور سوال کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا۔تو بجز اس کے کہ خود اس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگتا ہے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا موجب ہے۔دعائوں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کر دوں گا۔یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی ندانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے۔اسیے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق میں ڈبول کروں گا۔بیشک یہ ہم مانتے ہیں