۲؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
آج حضرت صاحبزادہ بشیرالدین محمود سلمہ اﷲ تعالیٰ کی بارات روڑکی کو قادیان سے علی الصباح روانہ ہوئے۔اس بارات میں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب اور جناب مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب اور جناب سید السادات میرنا صر نواب صاحب اور آپ کے صاحبزادہ میر محمد اسماٰعیل صاحب اور ڈاکٹر نور محمد صاحب اور صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب تعمانی اور مفتی محمد صادق صاحب تھے۔راہ میں مسنون طریق پر جناب میر ناصر نواب صاحب کو امیر قافلہ بنایا گیا۔اسی روز عشاء کی نماز روڑ کی میں ادا کی گئے۔جناب ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب جن کے ہاں بارات جانی تھی۔اسٹیشن ریلوے روڑ کی پر معہ اپنے دوستوں کے استقبال کے لیے تشریف لائے اور تمام لوازماتِ تواضع جو ہونے چاہیے تھے۔نہایت خندہ پیشانی اور شرح صدر سے ادا کئے۔
موت سے عبرت
حضرت اقدس حسب معمول وقت مقررہ پر سیر کو نکلے۔ابتدائے گفتگو میں فرمایا :
ہزار ہا بدبجت لوگوں سے قبریں بھری پڑی ہیں۔ہزاروں نامراد بادشاہ ان میں ہیں۔ہزاروں ہی بے نصیب اُن میں پڑے ہیں۔انسان اگر اپنے ہی خاندان کی موت پر قیاس کرے تو عبرت حاصل کر سکتا ہے۔عمر کا سلسلہ اپنے خاندان سے معوم کر سکتا ہے۔بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی عمریں پچاس تک پہنچتی ہیں۔باگپور او ر ممالک متوسطہ کی طرف عمریں بہت ہی چھوٹی ہوتی ہیں۔اس طرف بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض خاندانوں کی عمریں چھوٹی ہیں۔اصل یہ ہے کہ یہ بھید کسی کو معلوم نہیں ہوا۔انگریز محقق با حق ٹکرّیں مارتے پھرتے ہیں کہ زمینداروں کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔یاد ماغی محنت کرنے والوں کی۔یہ صرف خیالی باتیں ہیں۔
انسان کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔بعض حیوانات کی عمریں بہت بڑی ہوتی ہیں۔مثلاً کچھوہ کی عمر بانچ ہزار برس تک ہوتی ہے۔اس لیے اس کو عربی میں غیلم کہتے ہیں۔کیونکہ یہ گویا ہمیشہ ہی جوان رہتا ہے۔سانپ کی عمر بھی بڑی ہوتی ہے۔ہزار ہزار برس تک۔
مرضئی مولیٰ
جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے