حکایتے ست کہ از روز گارہجراں است
اصل یہ ہے کہ جب انسان دنیا کو مقدم کر لیتا ہے خواہ جان و مال کے لیے یا دولت و ملوک کے لیے۔پھر اس کو دین کی طرف آنا مشکل ہو جاتا ہے،لیکن جن لوگوں نے دین کو طلب کیا ہے۔وہ اس مقام پر اس وقت تک نہیں پہنچے جبتک انہوں نے اﷲ تعالیٰ کو مقدم نہیں کر لیا۔اور منقطعین اور متبتلین میں داخل نہیں ہوئے۔ ؎
سخن اینست کہ مابے تو نخواہیم حیات
بشنو اے پیک سخن گیر وسخن باز رساں
قرآن شریف نے جو کہا ہے۔
اجیب دعوۃ الداع (البقرہ : ۱۸۷)
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا جواب ملتا ہے۔پس وید کی دعئیں بے ثمر ہیں،جن کا کوئی جواب نہیں ملتا۔بلکہ ساری دعائیں اُلٹی ہی پڑتی ہیں۔
مسیح کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر
مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ آج میں تعبیر الرئویا پڑھ رہا تھا۔ایک مقام پر مجھے بہت ہی لطف آیا۔لکھا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسیٰ کو خواب میں دیکھے۔تو وہ دلالت کرتا ہے کہ نقل مکان کرے گا۔(ایڈیٹرعلم تعبیر الرئویا کی رو سے یہ کیسا عجیب استدلال ہے۔اس امر پر کہ مسیح اپنے ملک سے کشمیر میں ضرور آئے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ قرآن اور حدیث ان کی مؤید ہوں۔)
مفتی محمد صادق صاحب آج کل ایک کتاب سنا رہے ہیں۔جو داستانِ مسیح کہنی چاہیے۔اس میں واقعہ صلیب کو نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔اور ان اسرار سے پتہ لگتا ہے جو مسیح کے صلیب پر سے زندہ اُتار لیے جانے کے مؤید ہیں۔مفتی صاحب نے عرض کی کہ حضور میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ایک مقام پر لکھا ہے۔کہ جب مسیح کو صلیب پر چڑھانے کا حکم ہو چکا۔اور پیلاطوس اور اس کی بیوی کے چھوڑ دینے کی تدابیر میں کامیابی نہ ہوئی۔تو پیلاطوس کی بیوی نے کہا کہ ہمیں عملی تدابیر میں لگ جانا چاہیے اور اس کے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس کے بعد آندھی کا زور بڑھ گیا اور بارش کا اندیشاہ ہوا۔اس لیے نماز عشاء ادا کرلی گئے اور جلسہ بر خاست ہوا۔