کسی کو ملی بیٹھ گئے۔تو حضرت حجۃاﷲ نے کشتیؔ نوح کی اشاعت کے متعلق فرمایا کہ: امید ہے جمعہ تک اشاعت ہو جائیگی۔ اور پھر انگریزی سلطنت کے متعلق قریباً وہی گفتگو فرمائی ج صبح کی سیر میں فرمائی تھی۔ہاں اتنا اضافہ اور کیا کہ : چونکہ مسیح ابن مریم کے ساتھ ہمیں مشابہت ہے۔اُن کے لیے جو اﷲ تعالٰ نے فرمایا یہ۔ واوینھما الیٰ ربوۃ ذات قرار ومعین (المومنوں : ۵۱) یعنی واقعہ صلیب کے بعد ان کو ایک اُونچے ٹیلہ پر جگہ دی۔ہاں آرام کی جگہ اور پانی کے چشمے تھے۔اصل یہ ہے کہ اس جگہ یعنی واقعاتِ مسیح ابن مریم میں تو صرف ظل تھا اور یہاں اصل ہے۔ہم کو ایسی جگہ پناہ دی جہاں یہودیوں کا بس نہیں چل سکتا ۔یعنی سلطنت انگلشیہ کے ماتحت۔اب یہاں یہودی حملہ نہیں کر سکتے۔ہمارے لیے یہ پناہ کی جگہ ہے۔اور حقائق و معارف کے چشمے یہاں بہ رہے ہیں۔ اتنے میں آسمان پر مغرب کی طرف سے ایک غبار سا اُٹھا۔کبھی کبھی اس آندھی میں بجلی کے کوندنے کی چمک بھی نظر آتی تھی۔بعض احباب نے چاہا کہ نیچے چلیں۔حضور نے فرمایا : دیکھ لو جو امر آسمان پر ہوتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ جناب میر صاحب نے عرض کی کہ حضور غور کر کے دیکھا جاوے تو پہلے زمانہ کی نسبت خدا کا فضل اب بہت زیادہ ہے۔فرمایا:۔ وہ زمانہ اس آخری زمانہ کا نمونہ تھا اور بطور ارہاص تھا۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ قرآن کریم عصائے موسیٰ کا قائمقام تھا جو مذاہب مخالفہ کو کھانے والا ہے اور حقیقت بھی یونہی ہے۔قرآن شریف کے مقابل پر کوئی کتاب نظر نہیں آتی۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک رؤیا مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی ایک رئویا سنائی کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سیالکوٹ کے بازار میں ایک آریہ بڑے کلے تھلے والا وعظ کرتا ہے۔اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ وید کی دعائوں کی طرف توجہ کرو۔مجھے یہ سن کر جوش اور غیرت آئی اور میں نے کہا بیشک وید میں دعائیں تو ہیں،مگر اُن کی قبولیت اور مستجاب الدعوت لوگوں کی علامات کا کوئی نشان بتائو۔وید میں کہاں ہے۔اس پر وہ بہت ہی چھوٹا سا ہو گیا۔یہ خواب مبارک اور آریہ پر فتح کی دلیل ہے۔ فرمایا : حقیقت میں خدا سے بے نصیب جانا ہی بڑا بھاری دوزخ ہے۔کسی نے کیا اچھا کہاہے۔ ؎