مسیح موعودؑ کے لیے اﷲ تعالیٰ نے ٹھہرایا ہے۔اُن کا دائرہ بہت تنگ اور چھوٹا تھا۔اور مسیح موعود کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ان سب امور پر جب نگاہ کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود (مسیح محمدی) ابن مریم (مسیح موسوی) سے بڑھا ہوا ہے۔اور خود عیسائیوں نے بھی مسیح کی آمد ثانی کو پہلی آمد کے مقابلہ میں بڑھ کر مانا ہے۔ خدا تعالیٰ کا ایک احسان خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ انگریزوں کی سلطنت میں ہمیں پیدا کیا؛ ورنہ اگر اسلامی سلطنت ہوتی،تو ان مولویوں ہی کے قابو میں ہوتی۔جو قتل کے فتوے اور کفر کے فتوے دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے انگریزوں کو بھیج دی۔جنہوں نے کل مذاہب کو آزادی دیدی۔اور ہمارے لیے ملک بھی چن کر مقرر کیا۔کل مذاہب کی کھچڑی جہاں موجود ہے۔ہم یہاں وہ کام کر سکت یہیں،جو مکہ مدینہ میں ہر گز نہ کر سکتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم انگریزوں کی خوشامد کرتے ہیں۔بلکہ ہم ھل جزاء الاحسان الا الاحسان (الرحمان : ۶۱) پر عمل کرتے ہیں۔خوشامدوہ کرتے ہیں جو الائمۃ من قریش مانتے اور سلطان روم کے لیے امیر المومنین ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں اور پھر دل میں کچھ رکھتے ہیں اور زبان سے کثھ کہتے ہیں۔ہم جو کچھ کہتے ہیں اور کرتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری کے لیے اور وہ محض خوشامد اور نفاق سے۔ (اس قدر بیان فر ما کر پھر حضرت تشریف لے گئے) نمازِ ظہر اور عصر کے وقت کوئی بات قابل نوٹ نہیں۔حضرت حجۃاﷲ علی الارض تشریف لائے اور بعد ادائے نماز تشریف لے گئے۔؎ٰ یکم اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ دربار شام حسب معمول حضرت امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام بعد ادائے نماز مغرب شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔خدام ایک دوسرے سے پہلے جگہ لینے کے لیے گرے پڑتے تھے۔آخر جب سب اپنی اپنی جگہ جہاں