محفوظ رکھا۔یہ کہاں سے نکلا کہ اس نے ساری عمر نکاح ہی نہیں کیا۔
مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام
مسیح کے ایۃ اﷲ ہونے میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ ایۃ اﷲ ہی ہوتا ہے۔براہینؔ احمدیہ میں مجھے مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے۔لنجعلک ایۃ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آیت تھے۔مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں۔عُزیر بھی ایۃ اﷲ تھے۔
مخالفوں کی طرف سے ہمارا حصہ
ان مخالفوں کی طرف سے ہمارے حصہ میں تو گالیاں ہی آئی ہیں۔اب اس رسالہ کشتی نوح کو پڑھ کر بھی بہت سی باتیں بنئیں گے اور گالیاں دیں گے۔کوئی فریبی اور مکار کہے گا۔کوئی کچھ۔
محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء
ابن مریم پر فضیلت کے دعویٰ کو یہ لوگ بڑی بُری نگاہ سے دیکھتے ہیں،مگر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صریح وحی سے مجھے معلوم کرایا گیا ہے کہ محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر ہے اور غور کر کے دیکھ لو ہر ایک بات اس سلسلہ کی موسوی سلسلہ سے بڑھی ہوئی ہے۔موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کیلئے آئے تھے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور فرمایا گیا۔
ما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ (الانبیاء : ۱۰۸)
پھر آپؐ کی تائیدات موسیٰؑ کی تائیدات سے بڑھ کر۔آپؐ کے اعجازی نشان بڑھ کر۔آپؐ کو جو کتاب دی گئے،وہ موسیٰؑ کی کتاب سے بڑھ کر۔ہمیشہ کے لیے۔غرض کل سامان بڑھ کر۔کامیابیاں بڑھ کر۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر نہ ہو؟ ہم ایسے نبی کے وارث ہیں جو رحمۃللعالمین اور کافۃ للناس (سباء : ۲۹) کے لیے رسول ہو کر آیا۔جس کی کتاب کا خدا محافظ اور جس کے حقائق و معارف سب سے بڑھ کر ہیں۔پھر ان معارف اور حقائق کو پانے والا کیوں کم ہے؟
پھر
واخرین منہم لما یلحقو ابہم (الجمعۃ : ۴)
جو فرمایا گیا ہے یہ مسیح موعود کے زمانہ کے لیے ہے اور اس کے منہم کے وہی معنی ہیں جو اما مکم منکم میں منکم سے مراد ہے۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ گروہ بھی صحابہ ہی کا گروہ ہے حضرت عیسیٰ کے لیے یہ کہاں؟
اور پھر حضرت عیسیٰ اگر اسی شان سے آتے جس شان سے وہ پہلے آئے تو وہ وہ کام نہ کر سکتے جو