گی اور بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوئی دکھائی دے گی۔
دودھاری تلوار گولڑوی کی کتاب سیف چشتیائی کے متعلق فرمایا۔کہ:
اس نے دوہرا کام کیا۔فیضی کی موت کا ہامری پیشگوئی کے موافق ہونا اس سے ثابت ہو گیا۔اور گولڑی کی پردہ دری ہو گئے۔اگر فیضی زندہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اصلاح کرتا۔یا اس ارادہ سے ہی باز آجاتا ۔مگر موت نے پیشگوئی کے موافق اُسے آلیا۔اور گولڑی اس کی کچی ہانڈی کھانے بیٹھ گیا اور نہ خیال کیا کہ اس کی ہر بات کی خود بھی تو تحقیق کرے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی پردہ دری کرالی۔اور محمد حسن کی بھی۔
مسیح علیہ السلام بن باپ تھے
حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امر دہی نے انبالہ سے آئے ہوئے ایک خط کا تذکرہ کیا۔کہ کشتی نوح کے اس حصہ کو پڑھ کر جو الحکم میں شائع ہوا ہے۔انبالہ سے ایک مخلص دوست لکھتے ہیں کہ مسیح کے بھائی بہنوں کا جو حضرت اقدس نے ذکر کیا ہے۔اس سے شبہ ہوتا ہے کہ یوسف گویا مسیح کا باپ بھی تھا؟ فرمایا :
ہم مسیح کو بن باپ پیدا ہوا مانتے ہیں اور ہامری کتابوں۔رسالوں اور اخبار کی بہت سی تحریروں میں لکھا جا چکا ہے۔اور ہم اس بات کو کیا کریں کہ یہ تاریخی غلطی مسلمانوں میں پیدا ہوئے ہے جو صحیح تاریخ سے ثابت ہے کہ مریم کا یوسف کے ساتھ نکاح ہو گیا تھا۔اور پھر اس سے اولاد بھی ہوئے تھی۔ہم نے تو اس اولاد کا ذکر کیا ہے اور اسی قسم کی غلطی واقعہ صلیب کے متعلق ہے۔مسیح کو صلیب دیئے جانے کے دردناک قصے موجود ہیں۔اور ان علمأ کے نزدیک وہ چھت پھاڑ کر اُڑ گئے۔اب اس میں کس کا قصور ہے۔یہ تو ان کو بالکل خدا بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بشریت ان کے پاس نہ آجاوے۔
اور ایسا ہی حضرت مریم کو ساری عمر بتول ٹھہرانا کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا۔بڑی غلطی ہے۔ان تاریخی امور سے ہم انکارنہیں کر سکتے۔مسیح کی نسبت ہمارا یہی مذہب ہے کہوہ بن باپ پیدا ہوئے۔
مریم علیہا السلام۔محصنہ ہونے کی حقیقت
مولوی مبارک علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور اس امر کی تائید میں کہ مریم علیہا السلام نے ساری عمر نکاح نہیں کیا۔یہ دلیل پیش کرتے ہیں۔کہ قرآن میں آیا ہے۔
والتی احصنت فرجھا (الانبیاء : ۹۲)
محصنات تو قرآن شریف میں خود نکاح والی عورتوں پر بولا گیا ہے۔
والمحصنات من النساء (النساء : ۲۵)
اور التی احصنت فرجھا کے معنے تو یہ ہیں۔کہ اس نے زنا سے اپنے آپ کو