اپنے مذہبکی سچائی کا کوئی نمونہ عملی طور پر دکھائے۔
ہم خدا تعالیٰ کے کلام کو کامل اعجاز مانتے ہیں اور ہمارا یقین اور دعوی ہے کہ کوئی دوسری کتاب اس کے مقابل نہیں ہے مثلاً میں علی وجہ البصیرۃ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کاکوئی امر پیش کریں وہ اپنی جگہ پر ایک نشان اور معجزہ ہے۔
مثلا تعلیم ہی کو دیکھیں تو وہ ایک عظیم معجزہ نظر آتی ہے او ر فی الواقع معجزہ ہے ایسے حکیمانہ نظام اور فطری تقاضوں کے موافق واقع ہوئی ہے کہ دوسری تعلیم اس کے ساتھ ہرگز ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتی قرآن شریف کی تعلیم پہلی ساری تعلیموں کی متّمم اور مکمل ہے۔ اس وقت صرف ایک پہلو تعلیم کا دکھا کر میں ثابت کر تا ہوں کہ قرآن شریف کی تعلیم اعلی درجہ پر واقع ہوئی ہے اور معجزہ ہے مثلاً توریت کی تعلیم( حالات موجودہ کے لحاظ سے کہو یا ضروریات وقت کے موافق) کا سارا زور قصاص اور بدلہ پر ہے۔جیسے آنکھ کے بدلہ آنکھ اور دانت کے بدلہ دانت اور بالمقابل انجیل کی ساری تعلیم کا زور عفو و درگزر پر تھا اور یہاں تک اس کی تاکید کی کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی اس کی طرف پھیر دو کوئی ایک کوس تک بیگار لے جائے تو دو کوس چلے جائو۔کرتہ مانگے تو چغہ بھی دے دو۔اس طرح پر ہر باب میں توریت اور انجیل کی تعلیم میں یہ بات نظر آئے گی کہ توریت افراط کا پہلولیتی ہے اور انجیل تفریط کا۔ مگر قرآن شریف ہر موقع او رمحل پرحکمت اور وسط کی تعلیم دیتا ہے جہاں دیکھو جس بارے میں قرآن کی تعلیم پر نگاہ کرو تو معلوم ہو گا کہ وہ محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے اگر ہم تسلیم کرتے ہیں کہ نفس تعلیم سب کا ایک ہی ہے لیکن اس میں کسی کو انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ توریت اور انجیل میں سے ہر ایک کتاب نے ایک ایک پہلو پر زور دیا ہے مگر فطرت انسانی کے تقاضے کے موافق صرف قرآن شریف نے تعلیم دی ہے یہ کہنا کہ توریت کی تعلیم افراط کے مقام پر ہے اس لئے وہ خد اکی طرف سے نہیں یہ صحیح نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ اس وقت ضرورتوں کے لحاظ سے ایسی تعلیم بکار تھی اور چوںکہ توریت یا انجیل قانون مختص المقام کی طرح تھیں اس لئے ان تعلیموں میں دوسرے پہلوئوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا لیکن قرآن شریف چوں کہ تمام دنیا اور تمام نوع انسان کے واسطے تھا اس لئے اس تعلیم کو ایسے مقام پر رکھا جو فطرت انسانی کے صحیح تقاضوں کے موافق تھی اور یہی حکمت ہے کیونکہ حکمت کے معنی ہیں وضع الشیئ فی محلہ یعنی کسی چیز کو اس کے اپنے محل پر رکھا پس یہ حکمت قرآن شریف نے ہی سکھلائی ہے۔
توریت جیسا کہ بیان کیا ہے ایک بے جا سختی پر زور دے رہی تھی اور انتقامی قوت کو بڑھاتی تھی اور انجیل بالمقابل بے ہودہ عفو پر زور مارتی تھی قرآن شریف نے ان دونوں کو چھوڑ کر حقیقی تعلیم دی ۔
جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا و اصلح فأجرہ علی اللہ( الشوریٰ:۴۱)
یعنی بدی کی جزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص معاف کر دے اور اس معاف کرنے میں اصلاح مقصود ہو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔٭