کہ وہ کہتے ہیں کہ میں بڑا خوش ہوں،کیونکہ بے تعلق ہوں مگر یہ کوئی فضیلت اور خوبی نہیں ہے۔اس سے اخلاق کے سارے شعبے مکمل نہیں ہوتے۔یہ نقص کی بات ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بچے مرے تھے آپ نے جو ثبات قدم اور رضا بالقضا کا کامل نمونہ دکھایا کسی اور کی زندگی میں کہاں ملتا ہے؟؎ٰ یکم اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ صبح کی سیر حضرت اقدس علیہ الصلٰۃ والسلام حسب معمول حلقہ خدام میں سیر کو نکلے۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امر دہی نے ایک مختصر سا انٹروڈکشن اپنی جدید تصنیف کا (جو سائیں مہر شاہ گو لڑی کے متعلق آپ لکھ رہے ہیں) سنانا شروع کیا۔جس میں سائیں جی کے سرقہ مضمون کشتہ اعجاز المسیح محمد حسن بھیں اور اعجاز المسیح کا جواب با وجود سرقہ مضامین کے اردو زبان میں بشکل سیف چشتیائی لکھنے سے سائیں جی کی قلعی کھولی ہے کہ اس سے وہ الزام بھی سائیں جی پر قائم ہو گیا کہ عربی تفسیر نویسی کی دعوت میں واقعی لا جواب ہو یگا تھا۔اور اُسے کوئی قوت اور قابلیت نہیں جو حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں آتا؛ورنہ کیا وجہ ہے کہ اعجاز المسیح کا جواب اردو میں لکھا حالانکہ خانہ نشین ہو کر لکھا ہے۔بہرحال یہ لطیف اور یلح دیباچہ سنا یا گیا۔ واذالعشار عطلت (التکویر : ۵) شہر سے باہر نکلتے ہی اونٹوں کی ایک قطار کھڑی تھی۔آپؑ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ : یہ بعنیہ ریل گاڑی کی طرح ایک سلسلہ ہے اور کوئی جانور نہیں جس کو آگے پیچھے اس طرز سے باندھیں۔گاڑیاں بھی اسی طرح باندھی جاتی ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس قدر فرمایا تھا۔خاکسار ایڈیٹر اس کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔اور اگر بات کا سلسلہ اور نہ چلا دیا جاتا تو امید تھی کہ اس نقطہ پر بات آجاتی کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اذالعشار عطلت کی پیشگوئی پوری ہو گئے ہے۔خصوصاً یہ نظارہ عرب میں اور بھی زیادہ حیرت انگیز اور مسرت بخش ہوگا۔جبکہ ان جنگلوں اور ریگستانوں میں جہاں یہ جہاز بیابان چلا کرتا تھا۔اب اس جگہ ریل گاڑی چلتی نظر آئے