خدا تعالیٰ ان ہی کے ساتھ ہوتا ہے۔اُن کے اور اُن یک غیروں میں ایک امتیاز ہوتا ہے۔جو تائید وہ اسلام کی کرتا ہے،وہ دوسروں کی نہیں کرتا۔اسلام کا خدا اپنے کلام کے ساتھ ایک شرف عطا کرتا ہے جو اور کسی کو نہیں ملتا اور اس طرح پر وہ قدرت کے نشان دکھاتا ہے اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں سکتا۔ہاں باتیں بنانے والے بہت ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ انسان کے تابع ہو،بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے تابع ہوں۔
بلاتاریخ
آج ہمیں کوئی دکھائے کہ اسلام کے سوا کونسا مذہب ہے جو اﷲ اور اس کی مخلوق کے لیے پاک ہدایت کرتا ہے۔
بلاتاریخ
دنیا کی بے ثباتی اور مصائب
دنیا ایسی ہے کہ یہ آرام کی جگہ نہیں،بلکہ ایک خارستان ہے۔خوشی کی جگہ نہیں۔اس کے ساتھ آلام و اسقام لگے ہوئے ہیں۔ہمارے خاندان میں پچاس کے قریب آدمی تھے۔وہ قریباً سب کے سب خاک کے نیچے چلے گئے۔بچوں بیویوں میں ابتلا آتے ہیں۔اس سے بھی انسان کو سبق ملتا ہے۔اس پر دنیا کی بے ثباتی اور حقیقت منکشف ہو جاتی ہے۔انسان چونکہ دو محبتوں کا مجموعہ ہے،کیونکہ انسان اصل میں اُنسَان ہے۔اس لیے اُنس،شفقت کا مادہ زیادہ ہے۔اگر اس میں یہ قوتیں نہ ہوتیں تو پھر بچوں اور دوسرے کمزور لوگوں کی پرورش کیونکر کرتا؟حقوق کا ادا کرنا،دوستی کے تعلقات یہ سب اُنس کو چاہتے ہیں۔
دوستوں کے لیے فکر و غم
اس طرح پر میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر یہ سلسلہ بڑھتا جاتا ہے اس قدر میرے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں اور متعلقین کا غم اور فکر بڑھ رہا ہے اور ہر روز کسی نہ کسی عزیز یا دوست کی تکلیف کی کوئی نہ کوئی خبر آجاتی ہے تو میں اس سے سخت کرب اور بے آرامی میں رہتا ہوں اور بعض دقت تو یہانتک حالت ہوتی ہے کہ نیند بھی نہیں آتی۔یہ سچی بات ہے کہ جس قدر تعلقات بڑھتے ہیں اسی قدر غم اور فکر بڑھتا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حال لکھتے ہیں