اصل تبلیغ توکل علے اﷲ سے ہوتی ہے
مفتی محمد صادق صاحب کو فرمایا جبکہ انہوں نے مسٹرویب کا ایک خط سنایا کہ :
اُن کو لکھ دو کہ عمر گذرتی جاتی ہے جو کرنا ہے اب کرلو۔دن بدن قویٰ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔دس برس پہلے جو قویٰ تھے وہ آج کہاں ہیں؟گذشتہ کا حساب کچھ نہیں۔آئندہ کا اعتبار نہیں۔جو کچھ کرنا ہو آدمی کو موجودہ وقت کو غنیمت سمجھ کر کرنا چاہیے۔اب اسلام کی خدمت کر لو۔اول واقفیت پیدا کرو کہ ٹھیک اسلام کیا ہے؟اسلام کی خدمت جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے۔وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اس کا مزا نہیں آتا،کیونکہ توکل علی اﷲ کا پورا لطف نہیں رہتا اور جب توکل پر کام کیا جاوے تو خدا مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو تو وہ وضع بدل دیتا ہے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح پر صحابہؓ کی وضع بدل دی۔یہ سارا کام اس کشش نے کیا جو صادق کے اندر ہوتی ہے۔یہ خیالات باطل ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ ہو تو کام چلے۔خدا تعالیٰ پر توکل کر کے جب ایک کام شروع کیا جاوے اور اصل غرض اس کے دین کی خدمت ہو تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے اور سارے سامان اور اسباب بہم پہنچاتا ہے۔
خواجہ کمال الدین صاحب
خواجہ کمال الدین صاحب کے ذکر پر فرمایا کہ :
بڑے سعید اور مخلص ہیں اور حقیقت میں مردانگی یہی ہے کہ جب تعلق پکڑے۔تو آخر تک نبھاوے۔یک درگیر ومحکم گیر۔
بنیظیر مجلس اور تائیدِ اسلام
یہ مجلس خود اﷲ تعالیٰ نے پیدا کردی ہے۔جس میں بیٹھ کر خدا نظر آتا ہے۔جو راستہ ہم صاف کرتے ہیں۔مشرق مغرب میں کہیں چلے جائو کسی جگہ وہ بات نہیں ملے گی۔کوئی ہفتہ ایسا نہیں گذرتا جب ایک یا دو باتیں اسلام کی تائید میں پیدا نہ ہوئی ہوں۔(۱۹۰۲۔۹۔۳۰)
بلاتاریخ
سچے مذہب کے پیروئوں کے ساتھ خدا ہوتا ہے
جو لوگ سچے مذہب کے پیرو ہوتے ہیں۔