سچا ہادی خیانت نہیں کر سکتا جو شخص خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کمزوری کو دور کرے۔سچا ہادی کبھی خیانت نہیں کر سکتا۔اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ جس طرز اور چال پر کوئی چلے خواہ اس کی زندگی اﷲ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف ہی ہو وہ پروا نہ کرے، تو سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے اصلاح کے لیے نہیں آیا۔بلکہ شیطان اس کا قرین ہے۔سچا ہادی جو دیکھتا ہے اس کی اصلاح کرتا ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ وہ کسی کی ذلت اور رسوائی نہیں کرنا چاہتا، مگر مسیض کے امراض کو شناخت کر کے ان کا علاج بتاتا ہے۔ خدمت دین بھی عمر بڑھاتی ہے جو لوگ دین کے لیے سچا خوش رکھتے ہیں۔اُن کی عمر بڑھائی جاوے گی اور حدیثوں میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے وقت عمریں بڑھادی جاویں گی۔جو خادم نہیں ہو سکتا وہ بڈھے بیل کی مانند ہیں۔کہ مالک جب چاہے اُسے ذبح کر ڈالے۔اور جو سچے دل سے خادم ہے۔وہ خدا کا عزیز ٹھہرتا ہے اور اس کی جان لینے میں خدا تعالیٰ کو تردد ہوتا ہے۔؎ٰ اس لیے فرمایا واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض (الرعد : ۱۸) ۲۶؍اگست ۱۹۰۲ء؁ آپ حج کیوں نہیں کرتے شیخ ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے خط کا جواب الحکم کی گذشتہ اشاعت میں کسی قدر بسط سے شائع ہو چکا ہے،لیکن اتمامِ حجت اور ایک نکتہ معرفت کے لیے اتنا اور عرض کرنا ضروری سمجھا ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلواہ لالسلام کے حضور جب وہ خط پڑھا گیا۔اور یہ اعتراض پیش کیا گیا کہ آپ کیوں حج نہیں کرتے ؟تو فرمایا کہ : میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔بہت سے خنزیر مرچکے ہیں۔اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔اُن سے فرصت اور فراغت تو ہولے۔ شیخ بٹالوی صاحب اگر انصاف سے کام لیں،تو ا۱مید ہے یہ لطیف جواب انہیں تسلیم ہی کرنا پڑے گا۔کیوں شیخ صاحب! ٹھیک ہے نا! پہلے خنزیروں کو قتل کر لیں؟