یہ شجاعت اور ہمت ایک کشش پیدا کرے گی کہ جس سے دل اس سلسلہ کی طرف کھچے چلے آئیں گے، مگر یہ کشش اور جذب دو چیزوں کو چاہتی ہے جن کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔اول پورا علم ہو۔دوم تقویٰ ہو۔کوئی علم بدوں تقویٰ کے کام نہیں دیتا ہے اور تقویٰ بدوں علم کے نہیں ہو سکتا ۔سنت اﷲ یہی ہے۔جب انسان پورا علم حاصل کرتا ہے،تو اسے حیا اور شرم بھی دامنگیر ہو جاتی ہے۔پس ان تینوں باتوں میں ہمارے واعظ کامل ہونے چاہئیں۔اور یہ میں اس لیے چاہتا ہوں کہ کثر ہمارے نام خطوط آتے ہیں۔فلاں سوال کا جواب کیا ہے؟ فلاں اعتراض کرتے ہیں اس کا کیا جواب دیں؟ اب ان خطوط کے کس قدر جواب لکھے جاویں۔اگر خود یہ لوگ علم صحیح اور پوری واقفیت حاصل کریں اور ہماری کتابوں کو غور سے پڑھیں تو وہ ان مشکلات میں نہ رہیں۔
ہماری جماعت کو عمل کی ضرورت ہے
یاد رکھو ہماری جماعت اس بات کے لیے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔نرا زبان سے کہہ دیا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بدقسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے۔کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمد للہ۔ مگر نامز نہیں پڑھتے اور شاععئر اﷲ کی حرمت نہیں کرتے۔پس میں تم سے یہ نہیں چاہتے کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھائو یہ نکمی حالت ہے۔خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لیے کھڑا کیا ہے۔پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔وہ گویا اپنے عمل سے میری عدم ضرورت پر زور دیتا۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے،تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے لکیا معنے ہیں؟میرے ساتھ وفاداری دکھائو اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو۔جس طرح رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے۔وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔یہ وہ عظیم الشان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا۔جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو پس اس کی قدر کرو اور اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکائو کہ اہل حق کا گروہ تم ہی ہو۔