بغیر تاریخ ابتلاکی حالت میںخدا سے روٹھنانہیں چاہئیے ایک دوست کو دوشمنوں نے سخت تکلیف دی اور ان کی شکائیتں بھی افسران بالادست سے کیں۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ ان کو وہاںسے تبدیل ہوناپڑا ۔ اُنھوں نے اس کے متعلق دعاکے لیے عرض کیاکہ اس سے دشمن خوش ہوںگے یہ نہیں ہوناچاہئیے ۔ اس کے متعلق جو فرمایا؛ اس کاخلاصہ یہ ہے ؛ خداکے ساتھ روٹھنا نہیں چاہئیے اور خداتعالیٰ کا شکوہ کرناکہ اس نے ہماری نصرت نہیں کی سخت غلطی ہے ۔مومنوں پر ابتلا آتے ہیں ج۔رسوُل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک کیسی تکلیفیں اٹھاتے رہے ۔ طائف میں گئے ؛ تو پتھر پڑے ۔ اس وقت جب آپ ؐ کے بدن سے خون جاری تھا ۔ آپ ؐ نے صدق اور دعا کانمونہ دکھایا ۔ اور کیا پاک الفاظ فرمائے کہ یا اللہمیں یہ سب تکلیفیں اس وقت تک اُٹھاتا رہوں گا ۔ جب تک تو راضی ہو ۔ احان کا ہوناضروری ہے ۔ نبیوں اور صادقوں پر ابتلا آئے ہیںحضرت مسیح کودیکھو کہ کیسا ابتلا آیا ۔ ایلی ایلی لما سبقتنی ۔کہنا پڑا ، یہویوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھادیاغرض مومن کو گھبرانا نہیں چاہئیے ۔اس مضمون پر ایک لمبی تقریر حضرت اقدس نے فرمائی جس کا خلاصہ آپ ہی کے اشعار میں ہے ہے:۔؎ٰ صادق آں باشد کہ ایام بلا مے گزارد با مخبت با وفا (الہامی) گر قضا را عاشقے گردد اسیر بوسد آں زنجیر راکز آشنا ڈائری سے اقتباس تقویٰ سے اکرام ہوتا ہے مولوی غلام حسن صاحب سب رجسٹرار پشاور سے تشریف لائے عندالملاقات حضرت حجۃاﷲ نے فرمایا کہ : ’’خدا کا شکر ہے کہ مولوی صاحب با وجود ہمارے سلسلہ میں شامل ہونے کے ہر دلعزیز ہیں‘‘۔