آئی ہو،تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ
لا یکلف اﷲ نفسا الاوسعھا (البقرہ : ۲۸۷)
اس لیے یہ مادہ اس نے سب میں رکھ دیا ہے۔میرا یہ مذہب ہے کہ ایک بدکار اور فاسق فاجر کو بھی بعض وقت سچی رؤیا آجاتی ہے اور کبھی کبھی کوئی الہام بھی ہو جاتا ہے۔گو وہ شخص اس کیفیت س یکوئی فائدہ اُٹھاوے یا نہ اُٹھاوے۔جبکہ کافر اور مومن دونوں کو سچی رؤیا آجاتی ہے،تو پھر سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے؟عظیم الشان فرق تو یہ ہے کہ کافر کی رؤیا بہت ہی کم سچی نکلتی ہے اور مومن کی کثرت سے سچی نکلتی ہے۔گویا پہلا فرق کثرت اور قلت کا ہے۔دوسرے مومن کے لیے بشارت کا حصہ زیادہ ہے۔جو کافر کی رؤیا میں نہیں ہوتا۔سومؔ مومن کو رؤیا مصفا اور روشن ہوتی ہے۔بحالیکہ کافر کی رؤیا مصفا نہیں ہوتی۔چہرمؔ مومن کی رؤیا اعلیٰ درجہ کی ہو گی۔
جماعت کے واعظین کی صفات
یہ امر بہت ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے واعظ تیار ہوں۔لیکن اگر دوسرے واعظوں اور ان میں کوئی امتیاز نہ ہو تو فضول ہے۔یہ واعظ اس قسم کے ہونے چاہئیں۔جو پہلے اپنی اصلاح کریں اور اپنے چلن میں ایک پاک تبدیلی کرکے دکھئیں،تا کہ ان کے نیک نمونوں کا اثر دوسروں پر پڑے۔عملی حالت کا عمدہ ہونا یہ سب سے بہترین وعظ ہے۔جو لوگ صرف وعظ کرتے ہیں،مگر خود اس پر عمل نہیں،وہ دوسروں پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈال سکتے،بلکہ اُن کا وعظ بعض اوقات اباحت پھیلانے والا ہو جاتا ہے۔کیونکہ سننے والے جب دیکھتے ہیں کہ وعظ کہنے والا خود عمل نہیں کرتا۔تو وہ ان باتوں کو بالکل خیالی سمجھتے ہیں۔اس لیے سب سے اول جس چیز کی ضرورجت واعظ کو ہے وہ اُس کی عملی حالت ہے۔دوسری بات جو اُن واعظوں کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کو صحیح علم اور واقفیت ہمارے عقائد اور مسائل کی ہو۔ثو کچھ ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اس کو انہوں نے پہلے خود اچھی طرح پر سمجھ لیا ہو اور ناقص اور ادھورا علم نہ رکھتے ہوں کہ مخالفوں کے سامنے شرمندہ ہوں۔اور جب کسی نے کوئی اعتراض کیا تو گھبا گئے کہ اب اس کا کیا جاوب دیں۔غرض علم صحیح ہونا ضروری ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ ایسی قوت اور شجاعت پیدا ہو کہ حق کے طالبوں کے واسطے ان مین زبان اور دل ہو۔یعنی پوری دلیری اور شجاع ت کے ساتھ بغیر کسی قسم کے خوف دہر اس کے اظہار حق کے لیے بول سکیں اور حق گوئی کے لئے اُن کے دل پر کسی دولتمند کا تمول یا بہادر کی شجاعت یا حاکم کی حکومت کوئی اثر پیدا نہ کر سکے۔یہ تین چیزیں جب حاصل ہو جائیں۔تب ہماری جماعت کے واعظ مفید ہو سکتے ہیں۔