تیسرا شِق مسیح کے صُعود کے متعلق یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی غرض فرار کی تھی۔یہ بالبداہت باطل ہے کیا زمین پر کوئی جگہ نا تھی۔اور ضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ (البقرہ : ۶۲) کے مصداق یہودیوں سے پھر اتنا خوف ہوا کہ پہلے آسمان پر بھی نہ ٹھہر سکے ۔غرض جس پہلو سے اس مسئلہ کو دیکھا جاوے۔یہ بالکل غلط ہے۔ایک ہی صورت ہے کہ انہوں نے اپنی طبعی موت سے جان دی اور پھر دوسرے مقربوں کی طرح خدا نے ان کا رفع کر دیا۔بغیر اس کے اور کوئی صورت ایسی نہیں جو اعتراض سے خالی ہو۔ مسیح ناصری توجہ سے سلب امراض فرماتے تھے علاج کی چار صورتیں تو عام ہیں۔دواؔ سے،غذاؔ سے،عملؔ سے،پرہیزؔ سے علاج کیا جاتا ہے۔ایک پانچویں قسم بھی جس سے سلب امراض ہوتا ہے،وہ توجہؔ ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام اسی توجہ سے سلب امراض کیا کرتے تھے۔اور یہ سلب امراض کی قوت مومن اور کافر کا امتیاز نہیں رکھتی۔بلکہ اس کے لئے نیک چلن ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔نبی اور عام لوگوں کی توجہ میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ نبی کی توجہ کسی نہیں ہوتی۔وہبی ہوتی ہے۔آجکل ڈوئیؔ جو بڑے بڑے دعوٰ کرتا ہے۔یہ بھی وہی سلب امراض ہے توجہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس سے سلبِ ذنوب بھی ہو جاتا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور مسیح علیہ السلام کی توجہ میں یہ فرق ہے کہ مسیح کی توجہ سے تو سلب امراض ہوتا تھا،مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے سلب ذنوب ہوتا تھا۔اور اس وجہ سے آپؐ کی قوت قدسی کامل کے درجہ پر پہنچی ہوئے تھی۔دعا بھی توجہ ہی کی ایک قسم ہوتی ہے۔توجہ کا سلسلہ کڑیوں کی طرح ہوتا ہے۔جو لوگ حکیم اور ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ان کو اس فن میں مہارت پیدا کرنی چاہیے۔مسیح کی توجہ چونکہ زیادہ تر سلب امراض کی طرف تھی۔اس لئے سلب ذنوب میں وہ کامیابی نہ ہونے کی وجہ یہی تھی۔کہ جو جماعت اُنہوں نے تیارکی وہ اپنی صفائی نفس اور تزکیہ باطن میں ان مدارج کو پہنچ نہ سکی جو جلیل الشان صحابہ کو ملی۔اور یہانتک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی با اثر تھی کہ آج اس زمانہ میں بھی تیرہ سو برس کے بعد سلب ذنوب کی وہی قوت اور تاثیر رکھتی ہے جو اس وقت میں رکھتی تھی۔مسیح اس میدان میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کافر اور مومن کی رؤیا میں فرق اﷲ تعالیٰ نے وحی اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے، کیونکہ اگر یہ مادہ نہ رکھا ہوتا،تو پھر حجب پوری نہ ہو سکتی۔اس لیے جو نبی آتا ہے اس کی نبوت اور وحی و الہام کے سمجھنے کے لیے اﷲ تعالٰ نے ہر شخص کی فطرت میں ایک ودیعت رکھی ہوئی ہے۔اور وہ ودیعت خواب ہے۔اگر کسی کو کوئی خواب سچی کبھی نہ