بیان فرمایا ہے۔اور
مفتحۃ لہم الابواب (ص : ۵۱)
سے پایا جاتا ہے۔غرض اس رفع کے لیے جو لعنت سے بچنے کے لیے ہوا ور جو قرب الٰہی کے معنوں میں ہو،کیونکہ لعنت کی ضد رفع تو وہی ہے۔جس سے قرب الٰہی ہو۔یہ تو بجز موت کے حاصل نہیں ہوتا۔پھر جو لوگ ہمارے مخالف ہیں وہ چونکہ موت کے قائل نہیں۔اس لیے ان کے اعتقاد کے موافق مسیح کو ابھی رفع نہیں ہوا۔کیونکہ یہ رفع انسان کی آخری زندگی کا نتیجہ ہے اور یہ ان کو حاصل نہیں ہوا۔پس اس شق کے لحاظ سے تو ان کا آسمان پر چڑھنا باطل ہوا۔
دوسری غرض رفع سے یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح کوئی نشان دکھانا چاہتے تھے،مگر یہودی جن کو نہشان دکھانا مقصود تھا۔وہ اب تک منکر ہی چلے آتے ہین۔اُنہوں نے عین صلیب کے وقت نشان مانگا تو ان کو کوئی نشان کدھایا نا گیا۔پھر ایک نشان جو اُن کو دکھانا مقصود تھا وہ بجز شاگردوں کے کسی اور کو نہ دکایا گیا۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ صلیب پر جب ان سے نشان مانگا گیا تھا توا س وقت نشان دکھاتے یا کہہ دیتے کہ میں ئسمان پر اُڑجانے کا نشان تم کو دکھائوں گا۔اور صعود کے دن سب کو پکار کر کہہ دیتے کہ آئو اب دیکھ لو میں آسمان پر جاتا ہوں۔پھر جب اس قسم کا کوئی واقعہ یہودیوں نے نہیں دیکھا اور وہ اب تک ہنسی اُڑاتے ہیں اور خطر ناک اعتراض کرتے ہیں،تو یہ غرض بھی ثابت نہ ہوئی۔
مسیح علیہ السلام کے مقابلہ میں ہمارے نشانوں کو دیکھو کہ کیسے واضح اور صاف ہیں اور لاکھوں انسان اُن میں سے بعض کے گواہ ہیں۔براہین احمدیہ میں یہ الہام ۲۲ برس سے زیادہ عرصہ ہوا ہے درج ہے۔ یا تون من کل فج عمیق اور یا تیک من کل فج عمیق۔اب اس کی ابت محمد حسین ہی سے پوچھو کہ جب اس نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا۔کس قدر لوگ یہاں آتے تھے اور کہاں سے آتے تھے۔اور اب تو آنیوالے لوگوں کی بابت ہم سے دریافت کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔پولیس کا ایک کانسٹیبل یہاں رہتا ہے جو آنیوالے مہمانوں کی ایک فہرست تیار کر کے اپنے افسروں کے پاس بھیجا کرتا ہے۔ان کے کاغذات کو جاکر کوئی دیکھ لے تو اُسے معلوم ہو جاوے گا کہ یہ پیشگوئی کس شان اور عظمت س یپوری ہو رہی ہے یہانتک کہ ہر شخص آنے والا اس پیشگوئی کو پورا کرتا ہے۔اسی طرح اس کا دوسرا حصہ یا تیک من کل فج عمیق ۔ دیکھ لو کہاں کہاں سے تحفے تحائف چلے آتے ہین۔اور روپیہ آتا ہے۔اس کے لیے بھی ڈاک خانہ کے کاغذات اور محکمہ ریلوے کے رجسٹر شہادت کے لیے کافی ہو سکت یہیں۔اب ان نشانوں کا ذرا مسیح کے نشانوں سے مقابلہ تو کر کے دکھائو۔وہاں تو یہودی دُہایتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔اگر یہودی دیکھتے تو کیوں اندار کرتے اور یہاں مخالف تک اس بات کے گواہ ہیں اور صد ہانشان اس قسم کے ہیں۔جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاوے،تو کئی کتابوں کی ضرورت پڑے۔