لیے وہ اپنی تعلیم اور تبلیغ میں کس درجہ کا معصوم ہوگا۔ حضرت مسیح ایک بار چھوڑ ہزار بار کہیں کہ مین خدا ہوں،لیکن کون ان کی خائی کا اعتراف کر سکتا ہے۔جبکہ انسانیت کا اقبال بھی آپ کے وجود میں نظر نہیں آتا۔دشمنوں کے نرغہ میں آپ پھنس جاتے ہیں اور اُن سے طمانچے کھاتے ہوئے صلیب پر لٹکائے جاتے ہیں۔باوجود یکہ وہ طعن کرتے ہیں کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے اُتر آ۔مگر آپ خاموش ہیں اور کوئی خدائی کرشمہ نہیں دکھاتے۔برخلاف اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خسروپرویز نے منصوبہ کیا اور آپؐ کو گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا۔مگر اس رات خود ہی ہلاک ہو گیا۔اور ادھر حضرت مسیح کو ایک معمولی چپراسی پکڑ کر لے جاتا ہے۔تائید الٰہی کا کوئی پتہ نہیں ملا۔ غرض جس قدر ان امور کی تنقیح کی اجوے گی،اسی قدر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج عالیہ معلوم ہوں گے اور آپؐ ایک بلند مینار پر کھڑے دکھائی دیں گے اور سمیح آپؐ سے مقابلہ کرنے میں بہت ہی نیچے کھڑے ہوں گے۔اس سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کیا ہو گی کہ تیرہ سو برس بعد اپنے انفاس قدسیہ سے وہ ایک انسان کو تیار کرتے ہیں،جو مسیح ابن مریم پر فضیلت پاتا ہے۔بلحاظ اپنے کام اور کامیابی کے یعنی مسیح موعود سے مقابلہ کرنے میں بھی مسیح اپنی کامیابی اور بعثت کے لحاظ سے کم یہ۔کیونکہ محمدی مسیح محمدی کمالات کا جامع ہے۔جیسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام نبیوں کے کمالات یکجا جمع تھے۔اس لیے مسیح موعود جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزی ظہور ہے۔اُن کمالات کو اپنے اندر رکھتا ہے اور اپنی دعوت کی وجہ سے مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہے۔شعر ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے مسیح ناصری کا آسمان پر جانا مسیح کو جو آسمان پر چڑھایا جاتا ہے تو سوال ہو سکتا ہے کہ وہ آسمان پر کیوں چڑھے؟ کیا ضرورت پیش آئی تھی؟عقل اس کے لیے تین شقیں تجویز کرتی ہے۔اور ان تینوں صورتوں میں مسیح کا صعودثابت نہیں ہوسکتا۔ شق اول : صلیب کی لعنت سے بچنے کے لیے۔کیونکہ تورات میں لکھا ہوا تھا کہ جو صلیب پر لٹکایا جاوے،وہ ملعون ہوتا ہے۔اب اگر مسیح کے صعودالی السماء سے یہ غرض تھی۔کہ وہ لعنت سے بچے رہیں،تو اس رفع کے لیے ضروری ہے کہ پہلے موت ہو۔کیونکہ یہ رفع وہ ہے،جو قربِ الٰہی کا مفہوم ہے۔اور بعد موت ملت اہے۔اسی لیے انی متوفیک ورافعک الی (آل عمران : ۵۶) کہا گیا۔اور یہ وہی رفع ہے جو ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ (الفجر : ۲۹) میں خدا نے