(د)
۱۔دیانند
پھر د ؔ کے مدمیں دیانند کے مرنے کی خبر ہے۔اس کو زندگی میں مرنے سے پہلے یہ خبر بذریعہ ایک رجسٹری شدہ خط کے اس کو دی گئی تھی۔اور شرمپتؔ اور ملاواؔمل موجود ہیں۔ان کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا تین مہینے پہلے یہ خبر دی گئے تھی یا نہیں؟
۲۔دلیپ سنگھ
اور اسی مدمیں دلیپ سنگھ کے نا کام ہونے کی پیشگوئی ہے۔ابھی اُس کے آنے کی کوئی خبر بھی نہیں تھی۔
بلاتاریخ
سید المعصومین صلی اﷲ علیہ وسلم
معصوم ہونے کے اسباب اور معصوم بنانے کے اسباب جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر آئے تھے وہ کسی دوسرے نبی کو کبھی نہیں ملے۔اسی لیے عصمت کے مسئلہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جس مقام اور درجہ پر ہیں۔وہاں اور کوئی نہیں ہے۔خود کوئی کبھی معصوم نہیں بن سکتا،بلکہ معصوم بنانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔جس شخص کو کثیر التعداد مال مل گیا ہے۔اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ چوری کرتا پھرے،لیکن جس پر خدا کی مار ہے اور گویا روٹیوں کا محتاج ہے اس سے تو ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ اگر پاخانہ میں کوڑی پڑی ہوئی ہو تو وہ اُس کے اٹھانے میں بھی کوئی مضائقہ اور دریغ نہ کرے گا۔سورسولاﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کا بہت بڑا فضل تھا۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا
وکان فضل اﷲ علیک عظیما (النساء : ۱۱۴)
اور اصل یہ ہے کہ انسان بچتا بھی فضل سے ہی ہے۔پس جس شخص پر خدا تعالیٰ کا فضل عظیم ہو اور جس کو کل دنیا کے لیے مبعوث کیا گیا ہو۔اور جو رھمۃ للعالمین ہو کر آیا ہو۔اُس کی عصمت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے۔عظیم الشان بلندی پر جو شخص کھڑا ہے ایک نیچے کھڑا ہوا اس سے مقابلہ کیا کرسکتا ہے۔مسیح کی ہمت اور دعوت صرف بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں تک مخدود ہے۔پھر اس کی عصمت کا درجہ بھی اس حدتک ہونا چاہیے۔لیکن جو شخص کل عالم کی نجات اور رستگاری کے واسطے آیا ہے۔ایک دانشمند خود سوچ سکتا ہے کہ اس کی تعلیم کیسی عالمگیر صداقتوں پر مشتمل ہو گی اور اسی