اور پھر وہ تمام نشانت اور علامات بھی قائم کر دیئے۔جو مسیح موعود اور مہدی موعود کے وقت کے مقرر تھے۔صلیب کا غلبہ بھی میرے وقت میں ہی ہو گیا۔اور پھر خسوف و کسوف کا نشان بھی پورا کر دیا۔اس قدر لمبا سلسلہ خدا نے دھوکے کا رکھا۔خدا تعالیٰ کی شان اس سے منزہ ہے۔کہ وہ کسی کو دھوکا دے۔مسلمانوں کی موجودہ حالت تو چاہتی تھی کہ کسی راستباز اور صادق کے ساتھ ان کی تائید کی جاتی نہ کہ کاذب اور مفتری کو بھیجا جاتا۔اور پھر یہ کہ کاذب کے وقت میں نشان وہ پورے کئے جو صادق کے لیے مقرر تھے۔کیا یہ تعجب کی بات نہ ہوگی؟اصل یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق جبکہ اسلام بہت کمزور ہو گیا تھا اور بالکل رسم پرستی اور نام کے طور پر رہ گیا تھا اور جبکہ نصاریٰ کا فتنہ حد سے بڑھ گیا تھا۔اور انہوں نے اسلام کے ذلیل کرنے کے لیے ہر قسم کے منصوبے کئے اور اپنی کوششوں میں کامیاب ہونے کے لیے مل مل کر اور اکیلے اکیلے زور لگایا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین کی گئے۔یہانتک کہ آپؐ کو معاذاﷲ جھوٹا نبی کہا گیا۔اور خطرناک الزام آپؐ کی پاک ذات پر لگائے اور کوئی دقیقہ اسلام کی ہتک اور بے عزتی کا باقی نہ رکھا گیا۔اور اپنے مذہب میں اس قدر غلو کیا۔کہ ایک ضعیفہ عورت کے بچہ کو خدائی کے تخت پر بٹھایا ۔اور ایک انسان کو خدا بنا کر پھر اس کو ملعون قرار دے کر اس کی لعنت کو برکت کا ذریعہ بنایا،تو خدا تعالیٰ نے جو غیور خدا ہے۔ایک عاجز انسان کو اپنے وعدہ کے موافق قائم کیا اور اس کی تائید اور نصرت کی۔اس کے لیے ان نشانوں کو پورا کیا جو اس وقت کے لیے مقرر تھے اور اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور توہین کا انتقام لینے والا ٹھہرایا۔اور وہ اس طرح پر کہ جس عاجز انسان مسیح ابن مریم کو خدا ٹھہرایا گیا تھا۔غیرت الٰہی نے اس کو مسیح ابن مریم سے افضل بنا کر دنیا میں بھیجا اور مسیح موعود اس کا نام رکھا۔مسیح موعود کا مسیح ابن مریم سے افضل ہونا خود یہود و نصاریٰ کے مسلمات سے ہے۔عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ اس کی آمدثانی پہلی آمد کے مقابل میں جلالی ہو گی۔پہلی آمد ناکامی کی تھی۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت چاہیے۔غرض خدا نے مجھے مسیح موعود ٹھہرایا اور میرے نشانات کو قوت اور تعداد میں مسیح کے نشانات سے بہت بڑھ کر ثابت کیا۔اگر کسی عیسائی کو شک ہو تو قوت ثبوت اور تعداد کے لحاظ سے میرے نشانوں کا اور مسیح کے نشانوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لے۔ان نشانوں میں سے ہی یہ خسوف وکسوف کا نشان ہے جو اپنے وقت پر میری صداقت اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر مہر کرنے کے لیے پورا ہوا۔میں نے سنا ہے کہ پٹیالہ میں ایک مولوی تھا۔اس نے جب دیکھا کہ خسوف وکسوف کا نشان پورا ہو گیا۔تو اس نے ہاتھ مار مار کر کہا۔کہ اب خلقت گمراہ ہو گی۔اب خلقت گمراہ ہوگی۔مگر اس احمق س یکوئی اتنا پوچھے کہ خدا تعالیٰ نے جب وہ نشان پورا کیا۔جو صادق کے لیے مقرر تھا۔پھر لوگ گمراہ ہوں گے یا ہدایت پائیں گے۔خسوف و کسوف کا نشان بہت بڑا نشان ہے۔