ہے۔پس یہ خدا کا زبردست نشان ہے جو ہماری اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایک زبردست گواہ ہے۔
(ح)
۱۔حیات خاں
ایسا ہی پھر ح ؔ کی مد میں حیات خاں کا مقدمہ ہے ۔بہت سے لوگ اس امر کے گواہ ہیں۔یہانتک کہ اکثر ہندوئوں کو بھی معلوم ہے اور میرے لڑکے فضل احمد اور سلطان احمد بھی اس میں گواہ ہیں۔سردار حیات خاں ایک دفعہ کسی مقدمہ میں معطل ہو گیا تھا۔میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم نے مجھے کہا کہ ان کے لیے دعا کرو۔میں نے دعا کی تو مجھے دکھایا گیا یہ کہ کرسی پر بیٹھا عدالت کر رہا ہے۔میں نے کہا یہ تو معطّل ہو گیا ہے۔کسی نے کہا کہ اس جہاں میں معطّل نہیں ہوا۔تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ بحال ہو جائے گا؛چنانچہ اس کی اطلاع دی گئے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ پھر بحال ہو گیا۔
۲۔حَانَ اَن تُعَانَ
ایسا ہی فحان ان تعان وتعرف بین الناس یہ پیشگوئی بھی وہیں موجود ہے۔کوئی ثابت کرے کہ اس الہام کے وقت کتنی جماعت تھی۔یا میں ہوتا تھا یا میاں شمس الدین جو براہینؔاحمدیہ کے مسودے لکھا کرتا تھا،مگر اب خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق لاکھوں کروڑوں انسانوں میں اس کو پورا کیا اور کر رہا ہے۔ہر نیا دن اس پیشگوئی کی شان اور عظمت کو بڑھا رہا ہے جوں جوں یہ سلسلہ ترقی کرتا جاتے ہے۔
(خ)
خسوف وکسوف
پھر خ ؔہے۔اس میں خسوف کسوف کی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اس کو دیکھو کہ تیرہ سو برس کے بعد یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کا نشان مقرر کیا تھا کہ اس کے وقت میں رمضان کے مہینہ خسوف اور کسوف ہوگا اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ نشان ابتدائے آفرینش سے لے کر کبھی نہیں ہوا۔کس قدر عظیم الشان نشان ہے جس کی نظیر آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مہدی کے وقت تک پائی نہیں جاتی۔اب تجھے جو دجال اور کذاب کہا جاتا ہے۔کیا کاذب اور دجال کے لیے ہی اﷲ تعالیٰ نے یہ نشان مقرر کیا تھا۔کیا خدا تعالیٰ کو بھی دھوکا لگ گیا۔کہ ایک تو مجھے صدی کے سر پر بھیجا۔