جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بھی نہیں کرتا ہے۔ اس پیشگوئی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کیونکہ لکھا ہے کہ تجمع لہ الصلوٰۃ۔یعنی اس کے لیے نماز جمع کی جائے گی۔ایسے امور جمع ہو جائیں گے کہ اس کے لیے نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو میں اپنا اعتقاد رکھتا ہوں۔اس کومین کسی کے دل میں نہیں دال سکتا۔میں ایک سچے مسلمان کے لیے یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ان امور کے ساتھ جو آپؐ کی نبوت کے لیے بطور شہادت ہوں۔محبت کی جاوے۔ان میں سے یہ پیشگوئیاں بھی ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کشفی کیسی تیز ہے۔اور آپؐ کی نگاہ کیسی دور تک پہنچنے والی تھی کہ آپؐ نے سارا نقشہ اس زمانہ کا کھینچ کر دکھایا ۔ہم اس پیشگوئی کو جوتجمع لہ الصلوٰۃ ہے۔بہت ہی بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس کے پورا ہونے پر ہمیں ایک راحت اور لذت آتی ہے جو دوسرے کے آگے بیان نہیں کر سکتے،کیونکہ لذت خواہ جسمانی ہو،خواہ روحانی۔ایک ایسی کیفیت اور اثر ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے کمال درجہ کی عزت اور صداقت ثابت ہوتی ہے کہ آپؐ نے جو کچھ فرمایا۔وہ پورا ہوا۔اب بتائو کہ کیا یہ امور جو جمع نماز کے موجب ہوئے ہیں۔خود ہم نے پیدا کر لیے ہیں یا خدا تعالیٰ نے یہ تقریب پیدا کر دی ہے؟ صحابہ نے اس پیشگوئی کو سنا مگر پوری ہوتے نہیں دیکھا اور اب جو پیشگوئی پوری ہوئی اور انہیں اس کی خبر ملتی ہے تو انہیں کیسی لذت آتی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جیسا اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ہم ایک لطف اور لذت اٹھارہے ہیں۔آسمان پر بھی ایک لذت ہے۔اس لیے کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ بعض زمینی امور ایسے ہوتے ہیں کہ آسمان پر اُن کی خبر دی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں جو کچھ ہوتا ہے،اس کی خبر دی جاتی ہے اور اس کا انتشار ہوتا ہے۔غرض یہ بڑی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔جس سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ہوتی ہے۔اُن کو حقیر سمجھنا کفر ہے۔یہ دوہرا نشان ہے۔ایک طرف ہماری صداقت کیلئے کیونکہ ہمارے لئے یہ نشان رکھا گیا تھا۔دوسری طرف خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کہ آپؐ کی فرمائی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی۔لوگ نالاقفی اور جہالت سے اعتراض کرتے ہیں ؛حالانکہ یہ امر بہت ہی قابل غور ہے۔کیا ہم نے خود ایسے امر پیدا کر لیے ہیں کہ نمازیں جمع کی جائیں؟پھر جب یہ امر سب خدا کی طرف سے ہیں تو پھر اعتراض کرنا ہی نری حماقت اور خبث ہے جو لوگ اس پیشگوئی پر اعتراض کرتے ہیں وہ مجھ پر نہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بلکہ خدا تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدھ مرتبہ نماز جمع نہ ہوگی،بلکہ ایک اچھی میعاد تک نماز جمع ہوتی رہے گی،کیونکہ ایک آدھ مرتبہ جمع کرنے کا اتفاق تو دوسرے مسلمانوں کو بھی ہو جاتا