گزر گیا۔ کوئی شخص ایک دم کے لیے بھی نہیں کہہ سکتاکہ میں زندہ رہوں گا۔ لیکن ایک خاص تعداد سالوں تک کی خبر دے دینا کیا یہ انسانی طاقت کاکام ہے ۔ اور پھر میرے جیسے آدمی کے لیے تو یہ قیافہ سے بھی ممکن نہیں ۔ جس کو دوبیماریاں لگی ہوئی ہیں ۔ باوجود ان بیماریوں اور ضعفوں کہ خداتعالیٰ کا یہ وعدہ دینا کہ تیری اسیّ برس کہ قریب عمر ہوگی ۔ کیسا عجیب ہے ۔ اور حقیقت میں خداہی کی طرف سے اس قسم کی خبر ہوسکتی ہے ؛ ورنہ عاجز انسان کچھ نہیںکہہ سکتا ۔ یہ پیشگوئی بھی پوری شدہ ہی سمجھ لیجیے، کیونکہ بہت عرصہ اس پر گزر گیا ہے میری عمر اب ساٹھ سے متجاوز ہو چکی ہے ۔
۲۔ثُلَۃٗ مِنَّ الْاَوَّلِیْنَ
پھر ثؔہی کی تدمین ایک اور پیشگوئی ہے ۔جو اس سے بھی عجیب تر اور عظیم الشان ہے۔ کہ خداتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
ثلۃ من الاولین وثلۃ من الا خرین ۔
اس سے ایک عظیم االشّان جماعت کے قائم کرنے کی خبر دیتا ہے ۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی تھی ،اس وقت ایک آدمی بھی ہم کو نہیں جانتا تھا اور کو ئی یہا ں آتا جاتا نہ تھا۔براہینؔاحمدیہ میں یہ الہام درج ہے۔ لیکن اب دیکھ لو کہ ستّر ہزار سے زیادہ آدمی اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیںاور دن بدن ترقی ہو رہی ہے ۔خاص قادیان میں ایک کثیر جماعت مو جو د رہتی ہے ۔پھر کیا یہ کوئی جھوٹ بات ہے ۔یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظروں میں عجیب ۔اور بھی ثؔکی مدمیں پیشگو ئیاں ہیں مگر میں اس وقت صرف مثال کے طور پر ایک دو بیان کرتا ہوں ۔
ج
۱۔جنازہ اسی طرح جؔ کی مد میں جنازہ کاالہام ہے ۔ جب ہمارے بڑے بھائی صاحب مرزاغلام قادر مرحوم فوت ہوئے ، توان کے مرنے سے پہلے جنازہ کا الہام ہو ا۔
۲۔ جمال الدین
اوراسی طرح جمال الدین کے متعلق بھی الہام ہو اتھا ۔ خواجہ جمال الدین صاحب جب اپنے امتحان منصفی میں فیل ہوئے ، تو میں نے دعاکی ۔ استغفار لہ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر ان کو جگہ دے دی ۔
۳۔جمع بین الصلوٰتین
پھر ج ؔ کی مد میں
جمع بین الصلوٰتین
کی پیشگوئی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے لیے ایک نشان ٹھہرایا ہے ۔ اس پیشگوئی کو پوراکرنا اختیاری امر نہیںہے ۔ موت سر پر ہے ۔ خدا جو چاہتاہے کرتاہے ۔ وہ خود اس کی تکمیل کررہاہے ۔