جس قدر ضروتیں پیش آتی گئی ہیں ۔ خو داس نے وعدہ کے موا فق تکفل کیا ہے اور کر تا ہے اب یہ بتاؤ کہ کیا یہ کوئی چھو ٹاسا نشان ہے ۔ اس طرح پر الف میں اور بہت سے نشان آسکتے ہیں ۔ (ب) پھر اب (ب)کی مدمیں سے دیکھو ۔ نمبر (۱) بشیرے ۔یہ لڑکا بشیر جو اب مو جو د ہے اس کی بابت پہلے اشتہا ر ہوا تھا اور اس اشتہا ر کے موا فق یہ پیدا ہو ا پھر اس کی آنکھو ں سے اس قدر پانی جاری تکہ آنکھیںبو ٹی کی طرح سر خ ہو گئی تھیں ۔ اور مجھے اند یشہ تھا کہ آنکھو ں کو خطرناک نقصان نہ پہنچے ۔ اس وقت میں نے دعا کی تب یہ الہام ہوا بَرقَ طفلی َبشیر۔بہت سے لو گ اس الہام کے بھی گواہ موجود ہیں،کیو نکہ میں الہام پو شیدہ تو رکھتا ہی نہیں ہوں ۔تبریق کے معنے ہیں آنکھو ں کا اچھا ہو نا ؛چنانچہ ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ یہ با لکل اچھا ہو گیا ۔ ۱ ؎ ۲۔بشمبر داس اسی طرح ب کی مد میں بشمبر داس کو داخل کر تی ہیں ۔ بشمبر داس قادیا ن کا رہنے ایک ہندو تھا اور ایک خشحا ل بر ہمن جو اس وقت پٹواری تھا ۔یہ دو نوں ایک مقدمہ میں ماخو ذ ہو ئے ۔ جس میں خو شحا ل کو دو سال اور بشمبر داس کو ایک سال کی قید کی سزاہوئی ۔ شرمپت رائے نے آکر مجھے دعا کے واسطے کہا اور میں نے دعا کی تو میں نے کشف میں دیکھا کہ میں نے اپنے ہا تھ سے نصف قید کاٹدی ہے پھر میں نے دیکھا کہ مسل واپس آکر نصف قید رہ جاوے گی اور وہ خو شحا ل اپنی پوری سزا بھگتے گا ۔ یہ خبر میںنے پہلے شرمپت کو دے دی ۔ وہ اب تک زندہ موجود ہے اور اگراس کو قسم دے کر پو چھا جاوے ،تو وہ انکار نہ کریگا۔غرض آخر جس طرح پر میں نے خبر دی تھی اور مجھے دکھایا گیا تھا ۔ وہی ظہور میں آیا یعنی مسل واپس آئی۔ اور اس میں بشمبرکی نصف سزا رہ گئی ۔ وہ نصف قید بھگت کر رہا ہو ا ۔ اس پر شرمپت نے کہا کہ تم چونکہ متقی ہو،اس لیے دعا قبو ل ہو گئی ۔چو نکہ اسلام کے ساتھ لوگوں کو بغض اور عداوت ہے ۔ اس لیے شرارت سے اسلام کی تعریف نہ کی ۔ اس مقدمہ میں جب اپیل کیا گیا ، تو رات کو علی محمد نام ایک شخص آیا اور اس نے آکر مجھے خبر دی کے وہ بری ہوگئے ہیں ۔ مجھے یہ خبر سن کر تعجب ہو اکیونکہ میں نے مذکورہ بالا پیشگوئی کی تھی ۔اس تردّد میں جب میں نے نماز پڑھی تو نماز ہی میں الہام ہو ا انک انت ا لا علی ۔ وہ رات تو گزر گئی اور میں نے مذید تحقیقایت نہ