دی کہ مولوی صاحب کہ ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا ۔ یہاں تک کے اس کے بدن پر پھوڑوں کے نشان کا بھی پتہ دیا گیا اور اس کا علاج بھی بتایا گیا ۔ اب کیا اشتہار پہلے سے نہیں دیاگیا تھا؟ اب دیکھ لو اس اشتہار لے موافقوہ بچّہ عبدالحی نام مولوی صاحب کے گھر میں پیدا ہوگیا ۔ اور اس کے پھوڑوں کے نشانات بھی ہیں۔ یہ وہی خصوصیتیں ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل کے وقت ہواکرتی ہیں ۔
۴۔ اَلَیْسَ اللہ بِکَاف ِ عَبْدَہٗ
پھر اسکے ساتھ اَلَیْسَ بِکَافِ عَبْدَہٗ ۔ کانشان ہے ۔ یہ بہت پرانا الہام ہے اوراس وقت کا جب میرے والد صاحب کا انتقال ہو ا۔میں لاہور گیا ہو ا۔ مرزاصاحب کی بیماری کی خبر جو مجھے لاہور پہنچی میں جمعے کو یہاں آگیا تو دردِ گردہ کی شکا یت تھی ۔ پہلے بھی ہو اکرتا تھا ۔ اس وقت تخفیف تھی ۔ ہفتہ کے دن دوپہر کو حُقہ پی رہے تھے اور ایک خدمت گار پنکھاکررہا تھا ۔ مجھے کہا کہ اب آرام کا وقت ہے تم جا کر آرا م کرو مَیں چوبارہ میں چلا گیا ۔ایک خدمت گا ر جمال ؔ نام میرے پاؤ ں دبارہا تھا ۔ تھوڑی سی غنودگی کہ ساتھ الہام ہو ا۔
والسماء والطارق ۔
اور معاً اس جے ساتھ یہ تفہیم ہوئی ۔ اب میں نہیںکہ سکتا کے لفظ پہلے آئے یا تفہیم ۔ قسم ہے آسمان کی اس حادثہ کو ج وغروب آفتاب کے بعد ہونے والا ہے ۔ گویا خداتعالیٰ عزا پرسی کرتا ہے ۔ یہ ایک عجیب بات ہے جس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا ۔ ایک مصیبت بھی آتی ہے اور خدا اس کی عزاپرسی بھی کرتا ہے؛ چونکہ ایک نیا عالم شروع ہونے ولا تھا ۔ اس لیے خداتعالیٰ نے قسم کھائی مجھے دیکھ کر خداتعالیٰ کا عجیب احساس محسوس ہو ا کہ میرے والدصاحب کہ حادثہ انتقال کی وہ قسم کھاتا ہے اس الہا م کے ساتھ پھر معاً میرے دل میں بشریّت کہ تقاضے کہ موافق یہ خیال گزر ۔ اور میں اس کو بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھتا ہوں چونکہ معاش کے بہت سے اسباب ان کی زندگی سے وابستہ تھے ۔ کچھ انعام انہیں ملتا تھا ۔ اورکچھ مختلف صورتیں آمدنی کی تھیں ۔ جس سے کوئی دو ہزار کے قریب آمدنی ہوتی تھی ۔ میں نے سمجھاکے اب وہ چونکہ ضبط ہوجائیں گے ، اس لیے ہمیں ابتلاء آئے گا یہ خیال تکلف کے پر نہیں بلکہ خداہی کی طرف سے میرے دل میں گزرا ۔ اور اس کے گزرنے کے ساتھہی پھر یہ الہام ہو ا۔
الیس اللہ بکاف عبدہ
یعنی کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؛چناچہ یہ الہام میں نے ملاؔ دامل اور شرمپت کی معرفت ایک انگشتری میں کھداہو االہام موجود ہے۔
اب دیکھ لو کہ اس وقت سے لے کر آج تک کیسا تکفّل کیا ۔ اگر کسی کو شک ہو تو ملادامل ؔ اورشرمپت ؔ سے پو چھ لے ۔ محمدشریف کی اولاد موجودہے ۔ شاید وہ مہر کن بھی ہو ۔ تکفّل بڑھتا گیا ہے یا نہیں جس