ہیں اس لیے چاہیے کہ تمہاری زبانیں تمہارے قابو میں ہوں۔ہر قسم کے لغو اور فضول باتوں سے پر ہیز کر نیوالی ہوں۔جھوٹ اس قدر عام ہو رہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ درویش ؔ۔ مولویؔ۔قصہ گوؔ۔واعظؔ اپنے بیانات کو سجانے کے لیے خدا سے نہ ڈر کر جھوٹ بول دیتے ہیں۔اور اس قسم کے اور بہت سے گناہ ہیں جو ملک میں کثرت کے ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔؎ٰ
قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے
فاجتنبو االرجس من الاوثان واجتنبو اقول الزور (الحج : ۳۱)
دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے۔اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے؛ ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیںہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہانتک کم ہو جات اہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے،تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔مدت تک ریاضت کریں۔تب جاکر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہوگی۔
کثرتِ گناہ اور اس کا علاج
اسی طرح پر اور قسم قسم کی بدکاریاں اور شرارتیں ہو رہی ہیں۔غرض دنیا میں گناہ کے سیلاب کا طوفان آیا ہوا ہے اور اس دریا کا گویا بند ٹوٹ گیا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ گناہ جو کیڑوں کی طرح چل رہے ہیں۔کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس سے یہ بلا دور ہو جائے اور دنیا جو خباثت اور گناہ کے زہر اور لعنت سے بھر گئے ہے۔کسی طرح پر صاف ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کو قریباً تمام مذہبوں اور ملتوں نے محسوس کیا اور اپنی اپنی جگہ پروہ کوئی نہ کوئی علاج بھی گناہ کا بتاتے ہیں۔مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس زہر کا تریاق کسی کے پاس نہیں۔اُن کے علاج استعمال کرکے مرض بڑھا ہے گھٹا نہیں۔
مثال کے طور پر ہم عیسائی مذہب کا نام لیتے ہیں۔اس مذہب نے گناہ کا علاج مسیح کے خون پر ایمان لانا رکھا ہے کہ مسیح ہمارے بدلے یہودیوں کے ہاتھوں صلیب لٹکایا جا کر جو ملعون ہو چکا ہے۔اس کی لعنت نے ہم کو برکت دی۔یہ عجیب فلاسفی ہے کہ جو کسی زمانہ اور عمر میں سمجھی نہیں جا سکتی۔لعنت برکت کا موجب کیونکر ہو سکتی ہے اور ایک کی موت دوسرے کی زندگی کا ذریعہ کیونکر ٹھہرتی ہے؟ ہم عیسائیوں کے اس طریق علاج کو عقلی دلائل کے معیار پر بھی پرکھنے کی ضرورت نہ سمجھتے ۔اگر کم از کم عیسائی دنیا