ہے۔اگر عفو نہ کیا جائے۔ہمادردی نہ کی اجوے۔اس طرح پر بگڑتے بگڑتے انجام بد ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو ت ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہین۔ایک شخص کا بیٹا ہو اور اس سے کوئی قصور سرزد ہو تو اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے اور اس کو الگ سمجھا یا جاتا ہے۔بھائی کی پردہ پوشی۔کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے لئے اشتہار دے۔پھر جب خدا تعالیٰ بھائی بناتا ہے تو کیا بھائیوں کے حقوق یہی ہیں؟ دنیا کے بھائی اخوت کا طریق نہیں چھوڑ تے میں مرزا نظام الدین وغیرہ کو دیکھتا ہوں کہ ان کی اباحت کی زندگی ہے۔مگر جب کوئی معاملہ ہو تو تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔فقیری بھی الگ رہ جاتی ہے۔بعض وقت انسان جانور۔بندر یا کتے سے بھی سیکھ لیتا ہے۔یہ طریق نامبارک ہے کہ اندرونی پھوٹ ہو۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و تعمت اخوت یاد دلائی ہے ۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کریگا۔خدا تعالیٰ پر مجھے بہت بڑی اُمّیدیں ہیں۔اُس نے وعدہ کیا ہے۔
جاعل الذین اتبعوک فوقالذین کفرو االی یوم القیا مۃ (آل عمران : ۵۶)
میں یقینا جانتا ہوں کہ وہ ایک جماعت قائم کرے گا۔جو قیامت تک منکروں پر غالب رہے گی۔مگر یہ دن جو ابتلا کے دن ہیں اور کمزوری کے ایام ہیں۔ہر ایک شخص کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔دیکھو ایک دوسروں کا شکوہ کرنا،دل آزاری کرنا اور سخت زبانی کر کے دوسرے کے دل کو صدمہ پہنچانا اور کمزوروں اور عاجزوں کو حقیر سمجھنا سخت گناہ ہے۔اب تم میں ایک نئی برادری اور نئی اخوت قائم ہوئے ہے۔پچھلے سلسلے منقطع ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نہی قوم بنائے ہے جس میں امیر غریب بچے جوان بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔پس غریبوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معزز بھائیوں کی قدر کریں اور عزت کریں اور امیروں کا فرض ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کریں ان کو فقیر اور ذلیل نہ سمجھیں،کیونکہ وہ بھی بھائی ہیں گو باپ جدا جدا ہوں مگر آخر تم سب کا روحانی باپ ایک ہی ہے اور وہ ایک ہی درخت کی ساخیں ہیں۔
جھوٹ کی مذمّت
بدکاری فسق و فجو سب گناہ ہیں۔مگر یہ ضروری دیکھا جاتا ہے کہ شیطان نے جو یہ جال پھینکا ہے اُس سے بجز خدا کے فضل کے کوئی نہیں بچ سکتا۔بعض وقت یونہی جھوٹ بول دیتا ہے مثلا باز یگر نے دس ہاتھ چھلانگ ماری ہو تو محض دوسروں کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان کر دیتا ہے کہ چالیس ہاتھ کی ماری ہے۔اس قسم کی شرارتیں شیطان نے پھیلا رکھی